کوہستان کرپشن سکینڈل کے پی حکومت کیلئے کلنک کا ٹیکہ ہے،عظمی بخاری
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 27 جون2025ء) وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری نے کہا ہے کہ40 ارب کا کوہستان کرپشن سکینڈل خیبر پختونخواحکومت کیلئے کلنک کا ٹیکہ ہے،خیبر پختونخوا کا پیسہ اشتہاریوں اور مفرورں پر لٹایا جا رہا ہے ،خیبر پختونخوا حکومت کو پختونوں سے زیادہ اڈیالہ جیل کے قیدی کی فکر ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو کوہستان میگا کرپشن سکینڈل کے حوالے سے جاری اپنے ایک بیان میں کیا ۔
(جاری ہے)
عظمی بخاری نے کہاکہ 190ملین پائونڈ کیس میں سزا یافتہ کیلئے 40 ارب کی کرپشن پریشان کن ہے ،کوہستان میگا کرپشن سکینڈل پر جیل میں بیٹھا قیدی بھی پریشان ہے ،دودھ کی رکھوالی پر بلے کو بٹھانے کا نتیجہ یہی نکلنا تھا۔عظمی بخاری نے کہا کہ کے پی حکومت کو پختونوں سے زیادہ اڈیالہ جیل کے قیدی کی فکر ہے ، جعلی صادق و امین سرٹیفائیڈ کرپٹ ثابت ہوا ۔انہوں نے کہا کہ 12سال سے خیبر پختونوا میں چور بازاری اور لوٹ کھسوٹ کا سلسلہ جاری ہے،خیبر پختونخوا میں تعلیم ، صحت اور انفراسٹرکچر جیسی بنیادی سہولیات بھی ناپید ہیں ۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کرپشن سکینڈل
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔