گرمیوں میں پانی کے متبادل مشروبات جو جسم کو بہتر ہائیڈریٹ کرتے ہیں
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
گرمیوں کے موسم میں جسم کو ہائیڈریٹ رکھنا نہ صرف راحت کا ذریعہ ہے بلکہ یہ صحت کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
پانی بلاشبہ جسمانی توازن کے لیے بہترین اور بنیادی مشروب ہے، مگر طبی ماہرین کے مطابق کچھ دیگر مشروبات ایسے بھی ہیں جو اپنی غذائی ساخت اور الیکٹرولائٹس کی موجودگی کے باعث پانی سے زیادہ دیر جسم میں ہائیڈریشن قائم رکھ سکتے ہیں۔
آئیے جانتے ہیں کہ کون سے مشروبات جسم کو بہتر طور پر ہائیڈریٹ کرتے ہیں اور کن مشروبات سے پرہیز کرنا چاہیے:
دودھ: مکمل ہائیڈریشن پیکیج
دودھ کو صرف ایک غذائیت بخش مشروب ہی نہیں بلکہ بہترین ہائیڈریٹنگ ایجنٹ بھی سمجھا جاتا ہے۔ اس میں موجود الیکٹرولائٹس (سوڈیئم، پوٹاشیئم)، پروٹین اور کاربوہائیڈریٹس کی موجودگی اسے پانی سے زیادہ دیر جسم میں برقرار رکھتی ہے۔ پروٹین کی وجہ سے اسے جسم دیر سے خارج کرتا ہے، یوں پانی کی کمی کے اثرات کم ہوتے ہیں۔
طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق، دودھ ورزش یا جسمانی سرگرمیوں کے بعد پانی یا انرجی ڈرنکس کے مقابلے میں بہتر ریکوری فراہم کرتا ہے۔
او آر ایس: طبی لحاظ سے نمبر ون
او آر ایس (Oral Rehydration Solution) ان افراد کے لیے خاص طور پر تجویز کیا جاتا ہے جنہیں شدید پسینہ آتا ہے، یا وہ گرمی میں باہر رہتے ہیں۔ اس محلول میں سوڈیئم، پوٹاشیئم، کلورائیڈ، اور گلوکوز متوازن مقدار میں شامل ہوتے ہیں جو جسمانی نمکیات کی فوری بحالی ممکن بناتے ہیں۔
طبی سطح پر اسے پانی سے بہتر ہائیڈریٹ کرنے والا مشروب قرار دیا گیا ہے، خاص طور پر ہیٹ اسٹروک، اسہال یا بخار جیسی صورتحال میں۔
ناریل کا پانی: قدرتی الیکٹرولائٹس کا خزانہ
ناریل کا پانی ایک قدرتی، شکر سے پاک اور کم کیلوریز والا مشروب ہے جو قدرتی پوٹاشیئم اور میگنیشیئم فراہم کرتا ہے۔ یہ خاص طور پر جسمانی حرارت کم کرنے، خون کے دباؤ کو متوازن رکھنے، اور ڈی ہائیڈریشن سے بچاؤ میں مددگار ہوتا ہے۔
گرمیوں میں ناریل کا پانی نہ صرف ہائیڈریٹ رکھتا ہے بلکہ جسم کو تازگی اور توانائی بھی فراہم کرتا ہے۔
تربوز اور خربوزے کا رس: قدرتی پانی سے بھرپور
تربوز اور خربوزے دونوں ہی پھل پانی کی بڑی مقدار رکھتے ہیں۔ ان کا رس وٹامنز، منرلز اور قدرتی شکر سے بھرپور ہوتا ہے۔ یہ مشروبات نہ صرف ہائیڈریٹ کرتے ہیں بلکہ جسم کو اینٹی آکسیڈنٹس بھی فراہم کرتے ہیں جو خلیاتی سطح پر جسمانی بحالی میں مدد دیتے ہیں۔
ہربل چائے (کم کیفین والی)
جڑی بوٹیوں سے بنی چائے جیسے کہ ادرک، کیمومائل یا ہبسکس چائے، جسمانی ہائیڈریشن کے لیے مفید ہوتی ہیں بشرطیکہ ان میں کیفین کی مقدار کم ہو۔ گرم یا ٹھنڈی صورت میں پی جانے والی یہ چائے گرمی کے موسم میں پانی کی کمی کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ ہاضمہ بہتر بنانے میں بھی مدد دیتی ہے۔
کن مشروبات سے پرہیز ضروری ہے؟
اگرچہ بہت سے لوگ پانی کی جگہ متبادل مشروبات کا استعمال کرتے ہیں، لیکن بعض مشروبات وقتی طور پر پیاس بجھاتے ہیں مگر جسم کو درحقیقت ڈی ہائیڈریٹ کر دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، درج ذیل مشروبات سے گرمیوں میں پرہیز ضروری ہے:
کیفین والے مشروبات
مثلاً زیادہ کافی، چائے، انرجی ڈرنکس۔ کیفین پیشاب آور (diuretic) اثر رکھتی ہے جس سے جسم سے پانی زیادہ خارج ہوتا ہے۔
الکوحلک مشروبات
یہ جسم سے پانی اور نمکیات نکال کر شدید ڈی ہائیڈریشن پیدا کر سکتے ہیں۔
زیادہ میٹھے سافٹ ڈرنکس
کاربونیٹڈ سافٹ ڈرنکس فوری پیاس تو بجھاتے ہیں مگر ان میں موجود زیادہ شکر اور سوڈا جسم میں پانی کی جذب ہونے کی صلاحیت کو کم کر دیتا ہے۔
کیا صرف پانی کافی ہے؟
پانی ہائیڈریشن کا بنیادی اور سستا ذریعہ ہے، مگر گرم موسم یا جسمانی سرگرمیوں کے دوران کچھ مخصوص مشروبات جیسے دودھ، او آر ایس یا ناریل کا پانی پانی سے زیادہ دیر ہائیڈریشن فراہم کر سکتے ہیں۔ اگر کسی فرد کو گرمی سے تھکن، پسینہ یا پانی کی شدید کمی ہو تو صرف پانی پر انحصار کرنے کے بجائے ان مشروبات کا انتخاب زیادہ فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہائیڈریٹ کر فراہم کر کرتے ہیں پانی کی کا پانی سے پانی کرتا ہے پانی سے کے لیے جسم کو
پڑھیں:
سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بذات خود نشہ کرنے والا شخص کسی بھی جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والے کو مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا کوئی حق حاصل ہے۔جیونیوز کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم ’سنی مسیح‘ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقراررکھنے کا حکم دے دیا۔
حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ تحریر کیا ، جبکہ اس اہم کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔دورانِ سماعت مجرم کے وکیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ واردات کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، لہٰذا اس بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
عدالت نے اس استدعا کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔ عدالت نے رولنگ دی کہ رضاکارانہ نشے کو کسی بھی مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانون کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ جرم سے استثنیٰ صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف (زبردستی) یا پھر اس کی لاعلمی میں کوئی نشہ آور چیز دی گئی ہو اور وہ اپنے حواس میں نہ ہو۔
پاکستانی نوجوان مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کے عشق میں لائن آف کنٹرول کے پار پہنچ گیا
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم نے انتہائی بے دردی سے ایک کمسن اور معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔ یہ جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے جو کسی بھی رعایت کا متقاضی نہیں، لہٰذا مجرم کی اپیل خارج کی جاتی ہے۔
مزید :