غزہ میں امدادی آٹے کے تھیلوں سے "نشہ آور گولیاں" برآمد، فلسطینی معاشرے کی تباہی کیلئے اسرائیلی-امریکی سازش بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
حکومتِ غزہ نے اعلان کیا ہے کہ امدادی آٹے کے تھیلوں میں سے نشہ آور گولیاں برآمد ہونے کا انکشاف؛ قابض اسرائیلی رژیم اور امریکہ کیجانب سے امداد کی آڑ میں فلسطینی معاشرے کی منظم تخریب، نشہ عام کرنے اور فلسطینیوں کی نسل کشی پر مبنی صیہونی پالیسی کو آگے بڑھانے کا واضح ثبوت ہے! اسلام ٹائمز۔ غزہ میں حکومتی دفتر برائے اطلاعاتِ عامہ نے اپنے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ امریکہ و اسرائیل کی جانب سے نام نہاد امداد کے ضمن میں دیئے جانے والے آٹے کے تھیلوں میں سے، جو اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ وابستہ نام نہاد "امدادی مراکز" کی جانب سے غزہ بھیجے گئے تھے، نشہ آور گولیاں "اکسی کوڈون (Oxycodone)" برآمد ہوئی ہیں۔ غزہ حکومت نے اس اقدام کو فلسطینی عوام کی صحت کے خلاف ایک بھیانک و دانستہ جرم قرار دیا ہے۔ غزہ حکومت کے بیان کے مطابق، اسرائیل و امریکہ کی جانب سے غزہ میں گذشتہ 1 ماہ سے امدادی مراکز قائم کئے گئے ہیں، جو بظاہر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد تقسیم کرنے کا دعوی کرتے ہیں لیکن مقامی فلسطینیوں کے لئے یہ نام نہاد امدادی مراکز "مصائد الموت" (موت کے پھندے) کے نام سے معروف ہو چکے ہیں، کیونکہ یہاں موجود اسرائیلی فوجی روزانہ کی بنیاد، پر ان مراکز میں امداد کے حصول کے لئے آنے والے بھوکے فلسطینی شہریوں پر اندھا دھند فائرنگ کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں اب تک سینکڑوں نہتے اور بھوکے پیاسے فلسطینی شہری شہید ہو چکے ہیں۔
اس بیان کے مطابق، ان مراکز نے کم از کم 4 مختلف مواقع پر آٹے کے ایسے تھیلے شہریوں کو فراہم کئے ہیں کہ جن میں نشہ آور گولیاں بھی شامل تھیں۔ فلسطینی حکام نے خبردار کیا ہے کہ ممکن ہے کہ ان گولیوں کو بعض صورتوں میں پیس کر آٹے میں ملا دیا گیا ہو کہ جو ایک ایسا امر ہے کہ جو اس حملے کی سطح کو بڑھا کر "پوری عوام کی صحت پر براہ راست حملے" کے مترادف بنا دیتا ہے۔ اس بیان میں تاکید کی گئی ہے کہ یہ غیر انسانی اقدام دراصل فلسطینی معاشرے کے اجتماعی تانے بانے کو تباہ کر ڈالنے، غزہ میں منشیات کو فروغ دینے اور فلسطینی باشندوں کی ذہنی و جسمانی صحت کو ختم کر ڈالنے کے مقصد سے انجام دیا جا رہا ہے جس کی مکمل ذمہ داری قابض اسرائیلی حکام کے ساتھ ساتھ امریکی حکومت پر بھی عائد ہوتی ہے۔ غزہ کے سرکاری دفتر برائے اطلاعات عامہ نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل، عالمی فوجداری عدالت اور دیگر بین الاقوامی اداروں سے بھی فی الفور مداخلت کی اپیل کی اور تاکید کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ان "مصائد الموت" (موت کے پھندے) نامی مراکز کی سرگرمیاں فورا بند کروائی جائیں اور امداد صرف اور صرف اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ تنظیموں، خاص طور پر انروا (UNRWA) کے توسط سے فراہم کی جائے۔ اپنے بیان کے آخر میں غزہ کی حکومت نے یہ اعلان بھی کیا کہ فلسطینی عوام کی جان و صحت اولین قومی ترجیح ہے اور وہ ان مجرمانہ اقدامات کے مرتکب عناصر، خواہ وہ اسرائیلی ہوں یا ان کے اندرونی و بیرونی معاونین، سب کو بے نقاب کرتے ہوئے سخت سے سخت سزا دلوانے کی بھرپور کوشش کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کیلئےحاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سٹاک مارکیٹ میں مندی، انڈیکس ایک لاکھ 70 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا
دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔
سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔
دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔
ٹرمپ کو بغیر سوچے سمجھے جارحیت کی قیمت چکانا پڑے گی: عباس عراقچی
حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت کا اعلان
وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔