گوادر ،باران رحمت کیلیے تیسرے روزبھی نماز استسقا کی ادائیگی
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
گوادر (نمائندہ جسارت ) ضلع کی جانب سے باران رحمت کے لیے تیسرے روز بھی نماز استسقا ادا کی گئی اللہ کے حضور گناہوں سے توبہ اور باران رحمت کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ سیکڑوں افراد کی شرکت۔ تفصیلات کے مطابق گوادر ان دنوں شدید خشک سالی کی لپیٹ میں ہے ضلع بھر میں پانی کی شدید قلّت ہے گزشتہ کئی عرصے سے بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے گوادر اور ملحقہ علاقوں کو پانی سپلائی کرنے والی آنکارہ کور ڈیم سوکھ چکا ہے جس میں پانی کا ذخیرہ ڈیڈ لیول کو کراس کرچکا ہے۔ جس کی وجہ سے ضلعی انتظامیہ اسسٹنٹ کمشنر گوادر جواد احمد زہری نے نیو ٹائون عید گاہ میں باران رحمت کے لیے تین روزہ نماز استسقا اور خصوصی دعائیں ادا کرنے کا اہتمام کرایا گیاجس میں شہریوں کی بڑی تعداد نے حصہ لیا۔ نماز استسقا کے تیسرے روز شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر گوادر جواد احمد زہری سمیت علما کرام مدارس کے طلبا اساتذہ کرام مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے شرکت کی۔ امام و خطیب مولانا غلام رضا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت امت مسلمہ کو اتحاد ویکجہتی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اسلامی احکامات پر عمل پیرا ہونے ، معاشرے میں تبدیلی لانے اور اپنے اعمال کو درست کرنے سمیت گناہوں سے توبہ کرنی چاہیے۔ اس موقع پر نماز استسقا اور باران رحمت کے لیے خصوصی دعا معروف عالم دین مولانا اسماعیل قیس نے کرائی۔ انہوں نے کہا قحط سالی بارش نہ ہونے سے لوگوں کو اللہ تعالی کی طرف رجوع کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی بہترین رزق اور رحمت والی بارش دینے والی ذات ہے۔ انھوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ گڑگڑا کر اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوںکی معافی طلب کریں اور نماز قائم رکھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: باران رحمت کے لیے
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔