امریکا و اسرائیل کا غزہ میں جنگ بندی نیا ڈرامہ ہے،علماء کرام
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹنڈوآدم (پ ر)ٹرمپ اور نیتن یاہو کا غزہ میں جنگ بندی ایک نیا ڈرامہ ہے جسے ہم مسترد کرتے ہیں،غزہ سے یہودیوں کونکال کرامریکا برطانیہ میں آباد کیا جائے،غزہ فلسطین کا حصہ ہے فلسطینیوں کے حوالے کیا جائے، حماس فلسطین کے رہائشی ہیں ان کے نکالنے کا مطالبہ جارحانہ ہے۔ تنظیم تحفظ ناموس ختم الانبیا پاکستان کی جانب سے جمعہ کو ملک بھر میں اسرائیل اور امریکا کے خلاف فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کا دن منایا گیا جمعہ کے اجتماعات سے خطاب میں تنظیم تحفظ ناموس خاتم الانبیا پاکستان کے سربراہ مفتی محمد طاہر مکی ،ختم نبوت لائرزفورم کے چیئرمین میئومنظور احمد راجپوت ایڈووکیٹ حافظ عبدالرحمن الحذیفی، پاسبان ختم نبوت کے حافظ شیر اسامہ بن طاہر، محافظین ختم نبوت کیحافظ رفیع الدین انڈھڑ اور دیگر رہنماؤں نے ٹرمپ اور نیتن یاہو کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی پر اتفاق کو ایک نیا ڈراما قرار دیتے ہوئے اس میں شامل دفعات کو مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ یہودی قرآن اور حدیث کی رو سے کبھی بھی مسلمانوں کے ہمدرد نہیں ہو سکتے،یہودیوں کی جانب سے مسلمانوں پر جنگ بندی یہ ایک ڈھونگ ہے۔مفتی محمد طاہر مکی نے کہا کہ اس سے پہلے بھی مصر اور متحدہ عرب امارات نے غزہ کا انتظام سنبھالا تھا لیکن یہ مسئلے کا حل نہیں، یاسر عرفات کو شہید کروا کر بھی مسئلہ حل نہ ہو سکا اس مسئلے کا حل صرف اسی صورت میں ہے کہ غزہ کے تمام انتظامات اور غزہ کی زمین فلسطینیوں کے حوالے کر دی جائے۔ مفتی محمد طاہر مکی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی اسلام اور مسلمان دشمنی ان کے اس بیان سے ظاہر ہو رہی ہے کہ غزہ کے مسلمان کسی اور ملک میں بسنے پر راضی ہو جائیں تو انہیں وہاں محفوظ مقام دیا جائے گا مسلمانوں کو کیوں یہاں سے نکالا جا رہا ہے جبکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ یہودیوں کو یہاں سے نکال کر امریکا برطانیہ اور یورپی ممالک کے اندر انہیں بسایا جائے قابض یہودیوں کو نکالنے کے بجائے مقبوضہ مسلمانوں کو بے گھر کیا جا رہا ہے یہ کھلی یہودیوں کی اسلام دشمنی ہے جسے ہم مسترد کرتے ہیں۔رہنماؤں نے اسلامی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کے ڈھونگ زدہ نعرے سے خوش نہ ہوں بلکہ لاکھوں مسلمانوں کے قتل کا حساب امریکا واسرائیل سے لیں۔ مفتی طاہر مکی نے کہا کہ حماس کو اور غزہ کے مسلمانوں کو اپنے اوپر ہونے والے ظلم کا حساب لینے کا پورا پورا حق حاصل ہے تمام مسلمانوں کی دعائیں اور ہمدردیاں حماس اور فلسطینی غزہ کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی جانب سے طاہر مکی غزہ کے
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔