اسرائیل کا ایران کیخلاف نیا منصوبہ تیار کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
تل ابیب (اوصاف نیوز)اسرائیل نے حالیہ 12 روزہ جنگ کے بعد ایران کے خلاف نیا منصوبہ تیار کرنے کا اعلان کر دیا۔
اسرائیلی وزیردفاع کیٹز نے اسرائیلی فوج کو ایران کیخلاف جامع منصوبہ بنانے کی ہدایت کر دی۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے میں فضائی برتری قائم رکھنا اور جوہری سرگرمیاں روکنا شامل ہے۔
منصوبے میں ایران کی میزائل پیداوار روکنے کا عمل بھی شامل ہے۔اسرائیلی وزیردفاع نے واضح کیا کہ ایران کی پیشرفت روکنےکےلیے ہر ممکن کارروائی کی جائےگی۔
اسرائیلی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ ایران کے ساتھ 12 روزہ تنازعے کے دوران ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای کو قتل کرنا چاہتے تھے لیکن آپریشنل موقع نہیں ملا، موقع ملتا تو ایرانی سپریم لیڈرکو قتل کردیتے۔
کاٹز کا کہنا تھا کہ امنہ ای کو معلوم تھا کہ ان پر حملہ ہونے والا ہے اس لیے وہ روپوش ہوگئے، وہ ای بنکر میں چلے گئےتھے اور پاسداران انقلاب کے نئے کمانڈرز سے رابطے بھی منقطع کردیئے تھے۔
دریائے سوات کے کنارے تمام ہوٹلز و تفریحی سرگرمیاں بند، دفعہ 144 نافذ
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: ایران کی
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔