امریکا کا ایران پر حملہ قانونی قرار دینے پر اصرار ، صدر کی ’وار پاورز‘ پر بحث چھڑ گئی
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
امریکا نے ایران کے جوہری سہولتوں پر ہونے والی حالیہ فضائی حملوں کو اقوامِ متحدہ کے سلامتی کونسل کے تحت ’اجتماعی دفاع‘ کے حق میں تسلیم کر لیا ہے۔
امریکا نے ایک خط میں بتایا کہ یہ حملے ایران کی جوہری افزودگی کی صلاحیت کو ختم کرنے اور اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کی نئی دھمکیوں پر ایران کا کرارا جواب، خطے میں تناؤ میں اضافہ
امریکی نمائندہ اقوامِ متحدہ، ڈوروتھی شیعہ نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ یہ کارروائی اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت جائز دفاعی اقدام تھا، اور انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ مذاکرات کے دروازے بھی کھلے رکھے ہوئے ہیں ۔
بین الاقوامی ردعملقرار دیتے ہوئے اس کی مکمل حمایت کی ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام بین الاقوامی امن کے لیے خطرہ ہے اور فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کی ضرورت ہے۔
چین اور روس نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کارروائی نے اقوام متحدہ کے چارٹر کو نقصان پہنچایا ہے۔ دونوں ممالک نے سفارتی راستہ اختیار کرنے پر زور دیا ہے۔
یورپی یونین، سعودی عرب، جاپان، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سمیت متعدد ممالک نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری مذاکرات اور سفارتی حل پر زور دیا ہے۔
ان ممالک کا کہنا ہے کہ مسئلے کا حل صرف بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
قانونی پہلو اور مستقبلاس اقدام نے صدر کے ’وار پاورز‘ استعمال پر قانونی بحثیں بھی شروع کر دیں ہیں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ الكونگریس کی منظوری کے بغیر یہ قدم امریکی آئین اور بین الاقوامی قانون دونوں کے تحت سوالات کھڑے کرتا ہے۔
عالمی تجزیہ کاروں نے بھی اس واقعے کو تاریخی موڑ قرار دیا، جہاں ایک جانب امریکہ نے خود کو قانونی دفاع کا حق دیا، اور دوسری جانب عالمی برادری نے اس کی قانونی حیثیت پر تنقید کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ امریکا ایٹمی تنصیبات ایران وار پاورز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ امریکا ایٹمی تنصیبات ایران وار پاورز متحدہ کے
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔