data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بدل دو نظام کے نعرہ کے ساتھ جماعت اسلامی 11 سال بعد مینار پاکستان پر اجتماع عام منعقد کر رہی ہے جماعت اسلامی کے رہنما اس بارے میں یقین رکھتے ہیں کہ جماعت اسلامی اس اجتماع کے بعد ملکی سیاست میں تبدیلی لانے کا سبب بنے گی اور اس گلے سڑے نظام کے چھٹکارے کے لیے نئی تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ عوام مایوس ہیں وہ اس نظام کے خلاف کھڑے ہونے کی سکت اپنے اندر محسوس نہیں کرتے اور سمجھتے ہیں کہ یہ فرسودہ گل سڑا نظام ان کی قسمت میں لکھ دیا گیا ہے جہاں کرپشن اور بددیانتی ہنر ہے، انصاف مال دار کے لیے اور قانون غریبوں کے لیے۔ جمہوریت کی صورت میں موروثی آمریت مسلط ہے۔ یوں تو پاکستان کی ساری سیاسی جماعتیں جمہوریت کی دلدادہ ہیں اور جمہوریت کے نام لیتی ہیں لیکن دیکھا جائے تو ان میں سے کسی بھی جماعت کے اندر منظم جمہوریت موجود نہیں ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان کی واحد بہترین منظم سیاسی جماعت ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے اندر مضبوط جمہوری روایات رکھتی ہے۔ جماعت اسلامی کے تمام ذمے دار اور شوریٰ کا چناؤ انتخاب کے ذریعے کیا جاتا ہے اور اس انتخاب میں دیگر سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے برعکس کسی قسم کی شخصی خاندانی گروہی یا موروثی سیاست کی کوئی مثال نہیں ملتی ہے، جماعت اپنے اندر نظم و ضبط اخلاص جمہوری اقدار اور بدعنوانیوں سے پاک ہونے کی شہرت رکھتی ہے۔ نصف صدی سے زائد عرصے سے دنیا بھر میں اسلامی احیاء کے لیے پرامن عالمی اسلامی تحریکوں میں شمار کی جاتی ہے۔ اب جماعت اسلامی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اسی نظام کے تحت ملکی سیاست کا رُخ تبدیل کرنا ہوگا۔
کہا جاتا ہے کہ جماعت اسلامی کے اگر سو 100 شعبے ہیں تو 99 شعبے میں وہ کامیاب ہے اور ایک شعبہ جس کو ملکی سیاست کہا جاتا ہے ناکام ہے لیکن امیر جماعت اسلامی آج کہہ رہے ہیں کہ انہیں یقین ہے کہ جماعت اسلامی باقی شعبوں کی طرح اب انتخابی سیاست میں بھی کامیاب ہو گی اور بدل دو نظام کے نعرے کے تحت مینار پاکستان پر ہونے والے عظیم الشان اجتماع عام دراصل انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ جماعت اسلامی بر صغیر کی وہ پہلی جماعت ہے جس نے اسلام کو بطور جدید سیاسی نظام کے متعارف کروایا مسلمانان ہند کو دو قومی نظریے کی بنیاد فراہم کی اور لادین پاکستان بننے کی مخالفت کی جماعت اسلامی نے مغربیت سے متاثر جدید تعلیم یافتہ مسلمانوں کو عقلی اور علمی استدلال کے ذریعے اسلام سے متاثر کیا اور جدید مسائل کا حل اسلام کی روشنی میں پیش کیا پاکستان بننے کے بعد اسلامی تشخص کو اُجاگر کرنے کے لیے جدوجہد کی اسی جدوجہد کے نتیجے میں لادین یعنی سیکولر حلقوں کو منہ کی کھانی پڑی۔ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ کے خواب کو تعبیر دینے اور قرارداد مقاصد میں ریاست کو اصولی طور پر اسلامی قرار دینے کے لیے تحریک چلائی اور اس میں کامیابی حاصل کی۔
جماعت اسلامی کے بانی سید ابو الاعلیٰ مودودی کو قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دینے پر اس وقت کی حکومت نے جو ایوب خان کی تھی جیل میں ڈال دیا اور پھانسی کی سزا دی تقریباً تین سال تک ان کو قید میں رکھا اس دوران ان کو یہ پیشکش بھی کی کہ پھانسی کی سزا ختم ہو سکتی ہے اگر وہ قادیانیوں سے متعلق اپنے موقف سے دستبردار ہو جائیں مگر بانی جماعت نے ایسا کرنے سے انکار کیا بعد میں حکومت کو ملکی اور غیر ملکی دباؤ کے باعث ملکی اور عالمی دباؤ کے باعث سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کرنا پڑا۔ ایوب خان کے دور آمریت میں ایک ایسا طبقہ بھی سامنے آیا جس نے اسلام میں حدیث کی حیثیت سے انکار کیا یہاں تک کہ ایک جج نے حدیث کو سند ماننے سے انکار کر دیا اس موقع پہ مولانا مودودی نے اسلام میں حدیث کی بنیادی حیثیت کو شرعی اور عقلی دلائل سے ثابت کیا انہوں نے فتنہ انکار حدیث کے خلاف ترجمان القران کا منصب رسالت نمبر بھی شائع کیا۔
1964 میں ایوب خان نے تنگ آ کر جماعت اسلامی کو خلاف قانون قرار دے دیا اور سید ابو الاعلیٰ سمیت جماعت اسلامی کے پینسٹھ (65) نمایاں رہنماؤں کو جیل میں ڈال دیا مولانا سمیت جماعت اسلامی کے راہ نما قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کرتے رہے بالآخر ایوب خان کی حکومت کا خاتمہ ہوا، 1973 کے آئین میں اسلامی دفعات اور دیگر رہنما اصول شامل کرنے کے لیے جماعت اسلامی نے بھرپور کردار ادا کیا اور قادیانیوں کے خلاف مذہبی جماعتوں کو ساتھ ملا کر عوامی مہم چلائی اور قادیانیوں کو اقلیت قرار دلوایا۔ یہ جماعت اسلامی کا ایک طویل نظریاتی سفر ہے جہاں وہ کامیاب رہی ہے اور اب عوام کی حمایت سے سیاسی میدان میں کامیابی حاصل کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کے ایوب خان نظام کے کے لیے
پڑھیں:
آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
ملک کے بیشتر علاقوں میں آج بھی مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے، جبکہ محکمہ موسمیات نے کئی علاقوں میں موسلادھار بارش(Rain)، شہری سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، ندی نالوں میں طغیانی اور تیز آندھی کے باعث کمزور تعمیرات کو نقصان پہنچنے کا انتباہ جاری کر دیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آج خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر، اسلام آباد، پنجاب، شمال مشرقی بلوچستان، جنوب مشرقی سندھ اور گلگت بلتستان میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بیشتر مقامات پر وقفے وقفے سے بارش متوقع ہے، جبکہ کئی علاقوں میں موسلادھار بارش بھی ہو سکتی ہے۔ ، جبکہ خیبرپختونخوا، پنجاب، سندھ، شمال مشرقی بلوچستان، کشمیر اور گلگت بلتستان میں بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل اور شدید بارشوں کے باعث خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور آزاد کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہے، جبکہ کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے برساتی نالوں میں طغیانی آ سکتی ہے۔
محکمہ کے مطابق گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد کے نشیبی علاقوں میں شہری سیلاب اور پانی جمع ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ تیز آندھی، موسلادھار بارش اور آسمانی بجلی کے باعث سولر پینلز، بجلی کے کھمبوں، بل بورڈز اور دیگر کمزور تعمیرات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
اسلام آباد اور گردونواح میں مطلع جزوی ابر آلود رہنے کے ساتھ تیز ہواؤں، گرج چمک اور بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ چند مقامات پر موسلادھار بارش کا بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
خیبرپختونخوا میں دیر، چترال، سوات، کوہستان، شانگلہ، بٹگرام، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، بونیر، مالاکنڈ، باجوڑ، مہمند، خیبر، اورکزئی، پشاور، مردان، نوشہرہ، چارسدہ، صوابی، کوہاٹ، کرم، ہنگو، کرک، لکی مروت، بنوں، ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان اور وزیرستان میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش جبکہ بعض علاقوں میں موسلادھار بارش متوقع ہے۔
مزیدپڑھیں:پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ، حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا
پنجاب میں راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، منڈی بہاؤالدین، گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد، وزیرآباد، لاہور، ننکانہ صاحب، قصور، اوکاڑہ، شیخوپورہ، سیالکوٹ، نارووال، فیصل آباد، خوشاب، سرگودھا، ساہیوال، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، چنیوٹ، نورپور تھل، بھکر، میانوالی، لیہ، بہاولپور، بہاولنگر، ڈیرہ غازی خان، تونسہ، ملتان، خانیوال، لودھراں، مظفرگڑھ، کوٹ ادو، رحیم یار خان اور راجن پور میں بارش کا امکان ہے، جبکہ خطہ پوٹھوہار اور شمال مشرقی و جنوبی پنجاب کے بعض علاقوں میں شدید بارش ہو سکتی ہے۔
سندھ میں تھرپارکر، مٹھی، اسلام کوٹ، نگرپارکر، سکھر، گھوٹکی، سانگھڑ، لاڑکانہ، جیکب آباد، حیدرآباد، شہید بینظیر آباد، جامشورو، شہدادکوٹ، ٹھٹھہ، بدین، میرپورخاص اور دادو میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش جبکہ بعض مقامات پر موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ دیگر ساحلی علاقوں میں ہلکی بارش یا بوندا باندی ہو سکتی ہے۔
بلوچستان میں ژوب، موسیٰ خیل، شیرانی، لورالائی، بارکھان، کوہلو، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، پشین، چمن، کوئٹہ، زیارت، قلات، خضدار، آواران اور لسبیلہ سمیت مختلف علاقوں میں بارش اور چند مقامات پر شدید بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
آزاد کشمیر میں وقفے وقفے سے گرج چمک کے ساتھ بارش اور کئی علاقوں میں موسلادھار بارش جبکہ گلگت بلتستان میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش اور چند مقامات پر تیز بارش متوقع ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب، اسلام آباد، خیبرپختونخوا، شمال مشرقی بلوچستان، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور بالائی سندھ میں بارش ریکارڈ کی گئی۔ سب سے زیادہ بارش لاہور میں ہوئی، جہاں ایئرپورٹ پر 229 ملی میٹر، تاجپورہ میں 146، کاہنہ میں 135، شادی پورہ میں 124، مغل پورہ میں 122، اپر مال میں 107، مناواں میں 94 اور جوہر ٹاؤن میں 76 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ نارووال میں 76، شیخوپورہ میں 66، سیالکوٹ شہر میں 42، گوجرانوالہ میں 36، مری میں 18، قصور میں 15 اور اسلام آباد کے سیدپور میں 20 ملی میٹر بارش ہوئی۔
خیبرپختونخوا میں مالم جبہ میں 28، پٹن میں 13، پاراچنار میں 12، تخت بھائی میں 10 ملی میٹر جبکہ بلوچستان کے بارکھان میں 22 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ گلگت بلتستان میں بونجی میں 8، گلگت میں 6 اور کشمیر کے مظفرآباد ایئرپورٹ پر 7 ملی میٹر بارش ہوئی، جبکہ سندھ میں جیکب آباد میں 5 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بارشوں کے باعث ملک کے بیشتر علاقوں میں درجہ حرارت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ آج ریکارڈ کیے گئے زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت کے مطابق دالبندین میں 45 جبکہ تربت اور نوکنڈی میں 43 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔ اسلام آباد میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 31، لاہور 30، کراچی 36، پشاور 33، کوئٹہ 37، گلگت 29، مظفرآباد 31، مری 21، فیصل آباد 35 اور ملتان میں 36 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
محکمہ موسمیات نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ شدید بارشوں، لینڈ سلائیڈنگ، ندی نالوں میں طغیانی اور شہری سیلاب کے خدشات کے پیش نظر غیر ضروری سفر سے گریز کریں، مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں اور خراب موسم کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔