Islam Times:
2026-07-24@11:52:10 GMT

ٹرمپ کا ایران سے ایٹمی تنصیبات کے معائنے کا مطالبہ

اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT

ٹرمپ کا ایران سے ایٹمی تنصیبات کے معائنے کا مطالبہ

وائٹ ہاوس میں امریکی صدر نے کہا کہ اگر انٹیلی جنس رپورٹوں سے پتا چلا کہ ایران یورینیم کی افزودگی اس سطح تک کر رہا ہے جو امریکہ کے لیے تشویشناک ہے تو وہ دوبارہ بمباری پر غور کرینگے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے ایٹمی تنصیبات کے معائنے کا مطالبہ کردیا۔ ترکیہ کے سرکاری خبر رساں ادارے انادولو ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو کہا کہ امریکا چاہتا ہے کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے ) یا ’کوئی اور جس پر ہمیں بھروسہ ہو‘ ایران کی ایٹمی تنصیبات کا معائنہ کرے۔   وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ آئی اے ای اے کو ایران میں مکمل معائنہ کرنے کا حق دینے کا مطالبہ کریں گے؟۔ اس پر ٹرمپ نے کہا،’ یا کوئی اور، ہاں، یا کوئی ایسا جس پر ہمیں بھروسہ ہو، اس میں ہم خود بھی شامل ہیں۔’ ٹرمپ نے کہا کہ’ ایران ملاقات کرنا چاہتا ہے۔’ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ امریکی حملوں میں ایران کی ایٹمی تنصیبات کو ’ تباہ’ کر دیا گیا ہے۔ ٹرمپ نے کہاکہ ،’ مجھے نہیں لگتا۔ کہ وہ ( ایران) جلد ایٹمی پروگرام کی طرف واپس جائیں گے۔’   انہوں نے کہا کہ اگر انٹیلی جنس رپورٹوں سے پتا چلا کہ ایران یورینیم کی افزودگی اس سطح تک کر رہا ہے جو امریکہ کے لیے تشویشناک ہے تو وہ دوبارہ ایران پر بمباری کرنے پر غور کریں گے۔ خیال رہے کہ 22 جون کو امریکا نے ایران کے فردو نیوکلیئر پلانٹ پر چھ بنکر بسٹر بم گرائے اور نطنز اور اصفہان میں دو دیگر مقامات پر آبدوزوں سے کروز میزائل حملے کیے، جو ایران کے ایٹمی پروگرام کے خلاف امریکی مہم کا حصہ تھے۔   یہ حملے 13 جون کو ایران کے ایٹمی اور عسکری انفرااسٹرکچر پر اسرائیلی فضائی حملوں کی حمایت میں کیے گئے۔ ایران کے ایٹمی پروگرام پر ہونے والی 12 روزہ جنگ منگل کو صدر ٹرمپ کے اعلان کردہ جنگ بندی معاہدے کے بعد رک گئی تھی۔   دریں اثنا امریکی صدر نے کہا کہ ایران پر پابندیوں کے ممکنہ خاتمے پر کام کررہا تھا مگر ایران سےنفرت انگیز بیانات کے بعد پابندیاں ختم کرنےپرکام بندکردیا۔ امریکی صدر نے کہا کہ ایران ورلڈ آرڈر میں واپس آئے ورنہ سنگین نتائج ہوں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایٹمی تنصیبات امریکی صدر نے کہا کہ کہ ایران ایران کے

پڑھیں:

ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ

امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا

امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے بحرین اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات پر ڈرون حملے، طیارہ گرانے کا دعویٰ
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل