امریکا کا ایران پر حملوں کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت جائز قرار دینے کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
امریکا نے ایران پر حالیہ فوجی کارروائیوں کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت جائز قرار دیتے ہوئے اپنا مؤقف واضح کردیا ہے۔
سلامتی کونسل کو بھیجے گئے ایک خط میں امریکی حکومت نے ایران کے خلاف کارروائی کو ’اجتماعی دفاع‘ کا نام دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی جوہری صلاحیت کو ختم کرنا ان کا بنیادی ہدف تھا۔
اقوام متحدہ میں امریکی سفیر ڈروتھی شیا نے تحریر کردہ اس خط میں دلیل دی گئی کہ ’’ایران کے ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے اور ممکنہ استعمال کے خطرے کو روکنا ناگزیر تھا‘‘۔ خط میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ امریکا اب بھی ایران کے ساتھ کسی معاہدے کے لیے پرعزم ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متنبہ کیا کہ اگر مستقبل میں انٹیلی جنس رپورٹس میں ایران کی جانب سے یورینیم کی افزودگی کے حوالے سے تشویشناک حقائق سامنے آئے تو وہ دوبارہ حملے کے امکان سے انکار نہیں کریں گے۔ ٹرمپ نے کہا، ’’اگر ایران نے یورینیم کی اس سطح تک افزودگی کی جو ہمارے لیے قابل قبول نہیں، تو ہم بمباری کے آپشن پر غور کریں گے‘‘۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔