data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی:حکومت سندھ کی جانب سے کراچی کے دو بڑے تعلیمی بورڈز  میٹرک بورڈ اور انٹر بورڈ  کا چارج ایک ہی افسر کو دینے کا فیصلہ بری طرح ناکام ہوگیا ہے، انتظامی کمزوریوں اور چیئرمین کی عدم توجہی کے باعث بالخصوص اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ (انٹر بورڈ) کے اہم امور، امتحانی نظام اور اسکروٹنی کے نتائج شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق موجودہ چیئرمین غلام حسین سوہو اپنی مصروفیات کے باعث نہ میٹرک بورڈ اور نہ ہی انٹر بورڈ کو بھرپور وقت دے پا رہے ہیں، اس کا براہ راست اثر انٹر سال اول کے طلبہ کے اسکروٹنی نتائج پر پڑا ہے، جنہیں تاحال جاری نہیں کیا جا سکا۔

نتائج میں تاخیر سے کراچی کے سیکڑوں طلبہ و طالبات کی تعلیمی پیش رفت خطرے میں پڑ گئی ہے جو انٹر سال دوم کے امتحانات دے چکے ہیں اور یونیورسٹیوں میں داخلے کے منتظر ہیں، اسکروٹنی کے نتائج نہ ملنے کے باعث ان کے داخلے کھٹائی میں پڑ گئے ہیں اور قیمتی سال ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔

دوسری جانب انٹر بورڈ کراچی کے دفتر کے باہر طلبہ اور والدین نے احتجاج کیا، مظاہرین نے چیئرمین غلام حسین سوہو کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے فوری طور پر اسکروٹنی نتائج کے اجرا کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ کئی ماہ سے بورڈ کے چکر لگا رہے ہیں، لیکن چیئرمین سے ملاقات تک ممکن نہیں ہو رہی۔

سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچرز ایسوسی ایشن (سپلا) اور ایپکا انٹر بورڈ یونٹ نے بھی اسکروٹنی نتائج کے اجرا میں تاخیر، اساتذہ کے واجبات کی عدم ادائیگی اور دیگر مسائل پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

سپلا کراچی ریجن کے ترجمان سید محمد حیدر کے مطابق بورڈ کی جانب سے تعاون کے باوجود کالج اساتذہ کے واجبات تاحال ادا نہیں کیے گئے، اگر معاملات حل نہ ہوئے تو اساتذہ بورڈ سے وابستہ تمام امور کا بائیکاٹ کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

ایپکا یونٹ نے ملازمین کی میڈیکل فائلوں کے التوا اور طلبہ کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔

طلبہ، والدین، اساتذہ اور ملازمین نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے انٹر بورڈ میں انتظامی بحران ختم کریں اور اسکروٹنی نتائج فوری طور پر جاری کروائیں تاکہ طلبہ کا تعلیمی سال ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔

بورڈ ذرائع کے مطابق چیئرمین غلام حسین سوہو اسکروٹنی نتائج پر دستخط سے گریزاں ہیں، جس کی وجہ سے درجنوں کیسز زیر التوا ہیں۔ علاوہ ازیں، انٹر کے امتحانات کے دوران 26 مئی کو ایس ایم آرٹس اینڈ کامرس کالج (ایوننگ) میں نقل کی شکایات پر بورڈ کی مانیٹرنگ ٹیم نے چھاپہ مارا، جہاں چھت پر قائم کمروں سے 44 موبائل فونز اور نقل کا مواد برآمد ہوا، ان فونز کو بعد میں مبینہ طور پر نقل مافیا کے حوالے کر دیا گیا اور کسی کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسکروٹنی نتائج

پڑھیں:

پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید

وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح سے رابطہ کیا، دونوں رہنماؤں نے جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کی امید ظاہر کی۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ کویتی وزیر خارجہ نے امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں میں پاکستان کے کردار کو سراہا، کویتی وزیر خارجہ نے علاقائی امن و استحکام کیلئے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی۔

اسحاق ڈار نے خطے میں پائیدار امن کیلئے سفارتکاری اور مذاکرات کی حمایت کا اعادہ کیا، پاکستان نے مسائل کے حل کیلئے مسلسل سفارتی روابط کو ترجیحی راستہ قرار دیا۔

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کی امید ظاہر کی۔

اس موقع پر پاکستان اور کویت کے درمیان برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے اور مستقبل میں قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ