Jasarat News:
2026-07-24@09:45:45 GMT

مشرق وسطیٰ میں تبدیلی کی تیاری!

اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ پر جاری جنگ اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اسرائیلی اخبار ’’دی ٹائمز آف اسرائیل‘‘ اور ’’اسرائیل ہیوم‘‘ کی رپورٹوں کے مطابق اگلے دو ہفتوں میں جنگ بند ہونے کا قوی امکان ہے، جس کے بعد ایک نیا علاقائی منصوبہ روبہ عمل لایا جائے گا جس میں سعودی عرب اور دیگر خلیجی و مسلم ممالک اسرائیل کو تسلیم کرنے کی راہ پر گامزن ہوں گے۔ ان رپورٹوں کے مطابق متحدہ عرب امارات، مصر، اور دو دیگر عرب ممالک غزہ میں مشترکہ حکومت قائم کریں گے جو حماس کی جگہ لے گی۔ حماس کی قیادت کو جلا وطن کرنے اور تمام یرغمالیوں کی رہائی کا منصوبہ بھی اس میں شامل ہے۔ اسرائیل بظاہر دو ریاستی حل کی حمایت کا اعلان کرے گا، بشرطیکہ فلسطینی اتھارٹی میں ’’اصلاحات‘‘ کی جائیں۔ تاہم فلسطینی اتھارٹی اور حماس دونوں اس منصوبے پر تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی چاہتی ہے کہ غزہ کی تعمیر ِ نو میں اسے باقاعدہ کردار دیا جائے، جبکہ اسرائیل اس سے انکاری ہے۔ حماس بھی جلا وطنی کو مسترد کر چکی ہے۔ یہ تمام بات چیت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بن یامین نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی ایک اہم ٹیلی فونک گفتگو کا نتیجہ بتائی جاتی ہے، جس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور اسرائیلی وزیر برائے اسٹرٹیجک امور بھی شریک تھے۔ اس گفتگو میں جنگ کے خاتمے اور ابراہیمی معاہدے کو مزید وسعت دینے پر اتفاق ہوا۔ صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کے خلاف جاری کرپشن مقدمات پر بھی ناراضی ظاہر کی اور کہا کہ میرے نزدیک ناقابل ِ یقین ہے کہ اسرائیل کے لیے اتنا کچھ کرنے والے وزیراعظم کو سیاسی انتقامی مہم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ٹرمپ کے بقول میں نے ابھی سنا کہ اسرائیلی وزیراعظم پیر کو عدالت میں پیش ہونا ہے تاکہ اس طویل مقدمے کی پیروی جاری رکھی جائے جسے وہ مئی 2020ء سے جھیل رہے ہیں۔ امریکی صدر نے اسرائیلی وزیر اعظم کی تعریف میں آسمان زمین کے قلابے ملاتے ہوئے کہا کہ اس وقت نیتن یاہو سے زیادہ اپنی سرزمین سے محبت کرنے والا کوئی اور نہیں ہے۔ صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو جنگجو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران نیتن یاہو کے بجائے کوئی اور ملک کی سربراہی کر رہا ہوتا تو اسرائیل کو شدید نقصان، شرمندگی اور ابتری کا سامنا کرنا پڑتا۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف نے حیران کن دعویٰ کیا ہے کہ بہت جلد ایسے ممالک بھی اسرائیل کو تسلیم کریں گے جن کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ اسٹیو وٹکوف نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ ابراہام معاہدے کو مزید آگے بڑھانا چاہتے ہیں، ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان نے اسرائیل کو تسلیم کیا تھا، اب اس فہرست میں مزید حیران کن ممالک شامل ہونے والے ہیں، صدر ٹرمپ کی کوشش ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے والے ممالک کی تعداد بڑھے تاکہ مشرق وسطیٰ میں ایک نیا سیاسی توازن قائم کیا جا سکے۔ واضح رہے کہ امریکا کی ثالثی میں 2020ء میں ابراہیمی معاہدہ کیا گیا، جس کا بظاہر مقصد مشرقِ وسطیٰ میں امن اور تعاون کو فروغ دینا تھا تاہم بنیادی طور پر یہ معاہدہ اسرائیل اور کئی عرب ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے تشکیل دیا گیا۔ اس کے اہم فریقوں میں اسرائیل مرکزی کردار تھا، جبکہ متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اس میں شامل ہو کر سفارتی تعلقات قائم کیے جبکہ مصراور اردن نے جو پہلے ہی اسرائیل کے ساتھ امن معاہدوں پر دستخط کر چکے تھے، اس کی حمایت میں اپنا کردار ادا کیا۔ دریں اثناء چین کے وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں حالات پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے اور امن و استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ دوسری جانب ایران نے جنگ بندی کی بعض خلاف ورزیاں کیں جس کے جواب میں اسرائیل نے دوبارہ حملے کیے، جس پر ٹرمپ نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ ادھر، غزہ میں انسانی بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ تازہ اسرائیلی فضائی حملوں میں 78 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں کئی وہ لوگ شامل تھے جو امداد کے لیے جمع تھے۔ مئی سے اب تک 500 سے زائد فلسطینی امدادی مراکز پر حملوں میں شہید ہو چکے ہیں۔ اس دوران حماس نے خان یونس میں ایک بڑی کارروائی کر کے 7 اسرائیلی فوجی ہلاک کر دیے۔ یہ تمام پیش رفت اس بات کی طرف واضح اشارہ کر رہی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ایک نئی سیاسی، سفارتی اور عسکری منصوبہ بندی کی جارہی ہے تاکہ اپنی مرضی اور مفادات کے تحت مشرقِ وسطیٰ کی نقشہ گری کی جاسکے اور غزہ میں کسی بھی صورت مزاحمت کی تحریک کو کمزور کیا جاسکے، کیونکہ اسرائیل اور امریکا یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ غزہ میں مزاحمت کا زور توڑے بغیر وہ اپنے خاکے میں رنگ نہیں بھر سکتے، ان کے عزائم اور منصوبوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ حماس اور مزاحمتی تحریک ہیں۔ بدقسمتی سے عرب حکمران ایک بار پھر عاقبت نااندیشی کے مظاہرے پر تلے ہوئے ہیں اور محسوس ہوتا ہے کہ غزہ کے حوالے سے جو کچھ منصوبہ بندی کی جارہی ہے اس میں باہمی مشاورت اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ ابراہیمی معاہدہ ہو یا جنگ بندی کے حوالے سے حالیہ پیش رفت ان تمام امور میں امریکا پیش پیش ہے، مگر امریکا کی اس ثالثی کا مقصد مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ قطعاً نہیں، امریکا اوّل روز ہی سے اسرائیل کا محافظ اور اس کا پشتیبان بنا ہوا ہے، امریکا کا ہر قدم اسرائیل کی بقا، تحفظ اور سلامتی کے لیے ہے، امریکا اسرائیل کے دفاع اور سلامتی کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے، جنگ بندی میں ثالثی کا کردار حقیقتاً جنگ بندی کی خواہش نہیں محض اپنے مفادات کا تحفظ ہے، یہی بات ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامہ ای نے قوم سے خطاب میں کہی کہ اسرائیل کی مکمل تباہی کے خدشے پر امریکا جنگ میں شامل ہوا، امریکا کو محسوس ہوگیا تھا وہ شامل نہ ہوا تو اسرائیل تباہ ہو جائے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ صدارت کا حلف اٹھانے کے ساتھ ہی دنیا میں امن قائم کرنے کے عزائم کا اظہار کرتے رہے ہیں، ان کی خواہش ہے کہ انہیں امن کا نوبل انعام مل جائے، مگر یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ امن کے قیام کے دعوؤں کے باوجود وہ اسرائیل کی جارحیت نہ رکوا سکے، وہ نا صرف اس کی حمایت کر رہے ہیں بلکہ اسرائیل کو جنگی ساز و سامان بھی فراہم کررہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حماس کی جانب سے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر کیے جانے والے حملے کے اثرات صرف عسکری سطح تک محدود نہیں رہے بلکہ سیاسی اور سفارتی سطح پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں، اس حملے کے نتیجے میں اسرائیل کے سارے منصوبے خاک میں مل گئے۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں حقیقی اور پائیدار امن کا قیام فلسطینی عوام کوآزادی اور خود مختاری دیے بغیر ممکن نہیں، غزہ کے باشندے کے احساسات و جذبات کے علی الرغم جنگ بندی کا کوئی ایسا معاہدہ جس میں حماس کی قیادت کی جلاوطنی اور مزاحمت کا زور توڑنے کی سازش کی گئی ہو اسے کسی طور قبول نہیں کیا جاسکتا، نہ امت کے لیے یہ قابل ِ قبول ہوگا، مزاحمتی تحریک کے خاتمے کی کوشش اور اسرائیل کو تسلیم کرنا سیاسی خود کشی کے مترادف ہوگا، عرب ریاستوں کو ایسی خود کشی سے باز رہنا چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسرائیل کو تسلیم کہ اسرائیل امریکی صدر اسرائیل کے نیتن یاہو بندی کی حماس کی رہے ہیں کہ غزہ کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے

واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔

ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔

(جاری ہے)

جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔

امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔

امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار