ایران اسرائیل 12 روزہ جنگ میں 20 ارب ڈالر کا جھٹکا، اسرائیل دیوالیہ ہونے کے قریب
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایران کے خلاف حالیہ 12 روزہ جنگ میں اسرائیل کو بھاری معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ایرانی میڈیا اور اسرائیلی ذرائع کے مطابق، اس جنگ میں اسرائیل کو براہِ راست 12 ارب ڈالر اور مجموعی طور پر 20 ارب ڈالر تک کا معاشی نقصان پہنچا ہے۔
یہ نقصان فوجی اخراجات، انفراسٹرکچر کی تباہی، میزائل حملوں، متاثرین کو معاوضے، اور کاروباری نقصانات پر مشتمل ہے۔ اسرائیلی معیشت پر دباؤ اتنا شدید ہے کہ ملک کا مالیاتی خسارہ 6 فیصد تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی اخبارات کے مطابق، جنگ کے دوران صرف فوجی اخراجات 5 ارب ڈالر تک جا پہنچے، جبکہ 15 ہزار سے زائد شہریوں کو اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ ان متاثرین کے لیے حکومت کو ہوٹل اخراجات اور دوبارہ تعمیر کے اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
اسرائیلی وزارت خزانہ اب امریکا سے مالی امداد یا قرض کی ضمانت حاصل کرنے پر غور کر رہی ہے تاکہ فوجی بجٹ کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ جنگ کے بعد اب تک 41 ہزار سے زائد معاوضے کے دعوے حکومتی فنڈ میں جمع ہو چکے ہیں۔
ایران کے جوابی میزائل حملوں میں اسرائیلی حکومت کے مطابق 29 افراد ہلاک اور 3200 سے زائد زخمی ہوئے، لیکن مبصرین کا خیال ہے کہ حقیقی اعداد و شمار اس سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں۔ بعض رپورٹس میں ان حملوں کو “قیامت خیز تباہی” قرار دیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ارب ڈالر
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔