حارث رؤف انجری کا شکار، امریکا کی میجر لیگ کرکٹ سے باہر ہو گئے
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک)پاکستان کے فاسٹ باؤلر حارث رؤف انجری کا شکار ہو کر امریکا کی میجر لیگ کرکٹ سے باہر ہو گئے۔
ٹیم سان فرانسسکو یونیکارنز نے تصدیق کی ہے کہ حارث رؤف ہیم اسٹرنگ انجری کا شکار ہوئے ہیں۔ ٹیم کے مطابق فاسٹ باؤلر انجری کی وجہ سے میجر لیگ کرکٹ کے بقیہ میچ نہیں کھیل سکیں گے۔
ان کی جگہ نیوزی لینڈ کے بین لسٹر کو متبادل کے طور پر ٹیم میں شامل کر لیا گیا ہے۔ پاکستانی فاسٹ باؤلر میجر لیگ کرکٹ 2025 میں سان فرانسسکو یونیکارنز کی نمائندگی کرتے ہوئے سب زیادہ وکٹیں لینے والے کھلاڑی ہیں۔انہوں نے 8 میچوں میں 17 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
انجری کی وجہ سے حارث رؤف کی رواں ماہ بنگلہ دیش کے خلاف سیریز میں شرکت بھی مشکوک ہو گئی ہے، وہ کم از کم بنگلہ دیش کے خلاف سیریز سے باہر ہو گئے ہیں،اس حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے اب تک کوئی اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا نئے مالی سال کا شاندار آغاز، کے ایس ای 100 انڈیکس نئی بلند ترین سطح پر
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: میجر لیگ کرکٹ
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔