حارث رؤف انجری کا شکار، امریکا کی میجر لیگ کرکٹ سے باہر ہو گئے
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک)پاکستان کے فاسٹ باؤلر حارث رؤف انجری کا شکار ہو کر امریکا کی میجر لیگ کرکٹ سے باہر ہو گئے۔
ٹیم سان فرانسسکو یونیکارنز نے تصدیق کی ہے کہ حارث رؤف ہیم اسٹرنگ انجری کا شکار ہوئے ہیں۔ ٹیم کے مطابق فاسٹ باؤلر انجری کی وجہ سے میجر لیگ کرکٹ کے بقیہ میچ نہیں کھیل سکیں گے۔
ان کی جگہ نیوزی لینڈ کے بین لسٹر کو متبادل کے طور پر ٹیم میں شامل کر لیا گیا ہے۔ پاکستانی فاسٹ باؤلر میجر لیگ کرکٹ 2025 میں سان فرانسسکو یونیکارنز کی نمائندگی کرتے ہوئے سب زیادہ وکٹیں لینے والے کھلاڑی ہیں۔انہوں نے 8 میچوں میں 17 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
انجری کی وجہ سے حارث رؤف کی رواں ماہ بنگلہ دیش کے خلاف سیریز میں شرکت بھی مشکوک ہو گئی ہے، وہ کم از کم بنگلہ دیش کے خلاف سیریز سے باہر ہو گئے ہیں،اس حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے اب تک کوئی اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا نئے مالی سال کا شاندار آغاز، کے ایس ای 100 انڈیکس نئی بلند ترین سطح پر
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: میجر لیگ کرکٹ
پڑھیں:
ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
واشنگٹن:امریکی سینیٹ میں ایران سے متعلق پالیسی پر اس وقت گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی جب ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو سخت سوالات کی زد میں لے لیا۔
سینیٹ اجلاس کے دوران کوری بُکر نے حکومت کی ایران پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر امریکا کیوں ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف دوبارہ بڑھ رہا ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ماضی میں اسی ڈیل کو خود امریکا ناقابل قبول قرار دے چکا تھا۔
سینیٹر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا واشنگٹن اب اس معاہدے کے لیے دباؤ کا شکار ہو رہا ہے جسے پہلے مسترد کیا جا چکا تھا۔
بُکر نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات اور خطے کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اس کے باوجود سفارتی راستہ کس بنیاد پر اختیار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیںایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
جواب میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا ایران سے کسی بھیک کی پوزیشن میں نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ سفارتی اور تکنیکی عمل ہے۔
ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جذباتی نہیں بلکہ انتہائی تکنیکی نوعیت کے ہیں، جو چند دنوں میں مکمل نہیں ہو سکتے۔
روبیو نے کہا کہ ماہرین کی سطح پر بات چیت ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے تاکہ ایک قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اب ان بعض امور پر بات کرنے پر آمادہ ہوا ہے جن سے پہلے وہ انکار کرتا رہا ہے، خصوصاً افزودہ یورینیم کے معاملے پر پیش رفت کی ضرورت ہے۔