فاسٹ بولر حارث رؤف انجری کا شکار؛ بنگلادیش سیریز سے باہر ہونے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستانی کرکٹ ٹیم کو بنگلا دیش کے خلاف آئندہ سیریز سے قبل غیر متوقع دھچکا لگا ہے، ٹیم کے مایہ ناز فاسٹ بولر حارث رؤف فٹنس مسائل کا شکار ہو کر میدان سے باہر ہو گئے۔
امریکا میں جاری میجر لیگ کرکٹ میں ان کی شاندار کارکردگی کے باوجود، اچانک ہیم اسٹرنگ کی انجری نے ان کے لیے نہ صرف جاری ٹورنامنٹ بلکہ مستقبل قریب کے بین الاقوامی میچز کی شرکت کو بھی مشکوک بنا دیا ہے۔
حارث رؤف، جو سان فرانسسکو یونیکارنز کی نمائندگی کر رہے تھے، حالیہ میچ کے دوران ہیم اسٹرنگ میں تکلیف محسوس کرنے کے بعد میدان سے باہر چلے گئے۔ ابتدائی طبی معائنے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ گریڈ ون ہیم اسٹرنگ انجری کا شکار ہو چکے ہیں، جو کسی بھی فاسٹ بولر کے لیے ایک سنجیدہ اور احتیاط طلب معاملہ ہوتا ہے۔ اس انجری کے باعث وہ میجر لیگ کرکٹ کے باقی ماندہ میچز سے باہر ہو چکے ہیں۔
سان فرانسسکو یونیکارنز کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ حارث رؤف مزید میچز میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ ٹیم نے ان کی جگہ نیوزی لینڈ کے تیز گیند باز بین لسٹر کو اسکواڈ میں شامل کر لیا ہے تاکہ فاسٹ بولنگ کا خلا پُر کیا جا سکے۔
میجر لیگ کرکٹ میں اب تک کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے حارث رؤف اس ٹورنامنٹ کے سب سے کامیاب بولرز میں سے ایک تھے اور وکٹوں کے اعتبار سے وہ سرفہرست بولرز میں شمار کیے جا رہے تھے۔ ان کی برق رفتار گیندبازی، نپی تلی لائن و لینتھ اور جارح مزاجی نے نہ صرف شائقین کو متاثر کیا بلکہ ٹیم کی فتح میں بھی اہم کردار ادا کیا،تاہم اب ان کی غیر موجودگی ٹیم کی باؤلنگ لائن پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکی ہے۔
میڈیا رپورٹس میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پی سی بی اور ٹیم مینجمنٹ حارث رؤف کی انجری کا بغور جائزہ لے رہے ہیں اور ان کی فٹنس کی مکمل بحالی کے لیے فوری بحالی پروگرام ترتیب دیا گیا ہے،تاہم اس بات کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں کہ وہ بنگلا دیش کے خلاف آئندہ سیریز میں حصہ لے سکیں گے۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ قومی ٹیم کے فزیو اور میڈیکل اسٹاف نے ان کی ری ہیب کے عمل کو فوری طور پر شروع کرنے کی سفارش کی ہے تاکہ وہ آئندہ اہم سیریز سمیت دیگر اہم ایونٹس میں دستیاب ہو سکیں۔ اگرچہ انجری کو گریڈ ون یعنی نسبتاً کم شدت کی قرار دیا گیا ہے، لیکن حارث رؤف کی باؤلنگ اسٹائل کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی بھی جلد بازی خطرناک ہو سکتی ہے۔
یہ صورتحال اس وقت مزید پریشان کن ہو جاتی ہے جب ٹیم پہلے ہی محدود متبادل فاسٹ بولرز کے ساتھ چل رہی ہے۔ اگر حارث رؤف بنگلا دیش کے خلاف سیریز سے باہر ہوتے ہیں تو کپتان اور سلیکشن کمیٹی کو ایک نئی حکمت عملی ترتیب دینی ہوگی، جس میں ممکنہ طور پر نئے یا تجربہ کار بولرز کو شامل کیا جا سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سے باہر ہو
پڑھیں:
نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
فرحت اشتیاق کے مقبول ناول ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ پر مبنی پاکستان کی پہلی نیٹفلکس اوریجنل سیریز کی ریلیز سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آگئی ہے۔
’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ پہلی بار 2009 میں خواتین ڈائجسٹ میں قسط وار شائع ہوا تھا، جس کے بعد 2013 میں اسے کتابی صورت میں بھی شائع کیا گیا۔ تازہ رپورٹس کے مطابق اس پر مبنی نئی سیریز کو 2026 کے اختتام تک نیٹ فلکس پر ریلیز کیا جائے گا۔
اگرچہ اس سے قبل کئی کامیاب پاکستانی ڈرامے ٹی وی پر نشر ہونے کے بعد نیٹ فلکس پر دستیاب کیے جا چکے ہیں، تاہم ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ہو گی، جسے ہم ٹی وی اور نیٹ فلکس کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے۔
سیریز کی کاسٹ میں ماہرہ خان، فواد خان، بلال اشرف، حمزہ علی عباسی، ہانیہ عامر، اقرا عزیز، صنم سعید، احد رضا میر، نادیہ خان اور دیگر معروف فنکار شامل ہیں، جبکہ اس کی ہدایت کاری اور پروڈکشن مومنہ درید نے کی ہے۔
یہ سیریز ابتدائی طور پر 2025 میں ریلیز ہونا تھی، تاہم مقررہ وقت پر اس کی نمائش نہ ہو سکی۔ اس کے بعد طویل عرصے تک نہ کاسٹ اور نہ ہی پروڈیوسرز کی جانب سے کوئی باضابطہ اپ ڈیٹ سامنے آئی، جس کے باعث یہ قیاس آرائیاں بھی ہونے لگیں کہ شاید منصوبہ ملتوی یا منسوخ کر دیا گیا ہے۔
اب تازہ اطلاعات کے مطابق مومنہ درید اس وقت سیریز کی فائنل ایڈیٹنگ کی نگرانی کر رہی ہیں، جبکہ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں کاسٹ اس کی تشہیری مہم کا آغاز بھی کرے گی۔
دوسری جانب، کئی سال کی تاخیر کے باعث پاکستانی ناظرین اب بھی ریلیز کی خبروں پر مکمل یقین کرنے کو تیار نہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک مداح نے لکھا، ’’جب تک اقساط ریلیز نہیں ہوتیں، میں یقین نہیں کروں گا۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’مجھے اب بھی اس خبر پر اعتماد نہیں۔‘‘