راولپنڈی ویمن یونیورسٹی: ایڈیشنل کنٹرولر کے خلاف اساتذہ سراپا احتجاج، HEC کو شکایت
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
راولپنڈی: راولپنڈی ویمن یونیورسٹی میں ایڈیشنل کنٹرولر امتحانات سمیرا صدف کے غیر پیشہ ورانہ اور نازیبا رویے نے نہ صرف طالبات بلکہ سینئر فیکلٹی ممبران کو بھی شدید ذہنی اذیت سے دوچار کر رکھا ہے۔
اساتذہ کا کہنا ہے کہ سمیرا صدف وائس چانسلر ڈاکٹر انیلہ کمال کی منظور نظر ہونے کے سبب بے جا اختیارات استعمال کر رہی ہیں اور کسی قسم کی بازپرس سے محفوظ ہیں، سمیرا صدف کا رویہ اس قدر جارحانہ ہے کہ وہ اکثر سینئر پروفیسروں کے دفاتر میں جا کر یا انہیں اپنے دفتر بلا کر نہ صرف بدکلامی کرتی ہیں بلکہ تضحیک آمیز جملے اور نازیبا الفاظ بھی استعمال کرتی ہیں۔
بعض پروفیسروں نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ انہیں معمولی نوعیت کی انتظامی غلطیوں پر VC آفس میں بلا کر عوامی طور پر شرمندہ کیا جاتا ہے۔
یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ سمیرا صدف کو امتحانات کے شعبے کا کوئی سابقہ تجربہ حاصل نہیں تھا، وہ فائن آرٹس شعبے میں گریڈ 17 کی لیکچرار تھیں لیکن وائس چانسلر نے انہیں انتظامی تجربے کے بغیر 2023 میں گریڈ 19 کی ایڈیشنل کنٹرولر امتحانات کی ذمہ داری دے دی، ملک بھر کی جامعات میں یہ ذمہ داری عموماً گریڈ 20 یا 21 کے افسران کو دی جاتی ہے۔
یونیورسٹی کے سینئر اساتذہ کی جانب سے اس صورتحال پر کئی بار فیکلٹی میٹنگز میں وائس چانسلر کو آگاہ کیا گیا، اساتذہ کا موقف ہے کہ سمیرا صدف کا رویہ تعلیمی ماحول کو برباد کر رہا ہے لیکن وائس چانسلر نے شکایات کو نظرانداز کرتے ہوئے اساتذہ کی بجائے سمیرا صدف کی پشت پناہی جاری رکھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وائس چانسلر اپنی مدت ملازمت ختم ہونے سے پہلے (جو کہ 26 جولائی 2025 تک ہے)، سمیرا صدف کو مستقل طور پر گریڈ 20 میں کنٹرولر امتحانات مقرر کرنا چاہتی ہیں۔
اساتذہ کی جانب سے گزشتہ ایک ماہ میں “ورک پلیس ہراسمنٹ” اور “گریوینس کمیٹی” میں متعدد تحریری شکایات جمع کرائی گئیں، تاہم تاحال نہ کوئی کمیٹی تشکیل دی گئی اور نہ ہی شکایت کنندگان کو کسی قسم کا جواب موصول ہوا ہے۔
فیکلٹی اراکین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال پر جلد قابو نہ پایا گیا تو تدریسی ماحول مکمل طور پر متاثر ہو جائے گا اور یہ رویہ تعلیمی معیار پر بھی منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے جب ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کی جائزہ کمیٹی یونیورسٹی کے دورے پر آئی، تو فیکلٹی اراکین نے موقع غنیمت جان کر سمیرا صدف کے رویے سے متعلق تمام تفصیلات کھل کر بیان کیں، HEC کمیٹی نے اساتذہ کو یقین دہانی کرائی کہ ان کی شکایات کو باضابطہ طور پر رپورٹ میں شامل کیا جائے گا اور وہ وائس چانسلر سے اس معاملے میں ادارہ جاتی کارروائی کا مطالبہ کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وائس چانسلر
پڑھیں:
نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔
پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔
گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔
گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟
پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔
بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔
سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔