ہمیں غیر سنجیدہ مذاکرات میں کوئی دلچسپی نہیں، سید عباس عراقچی
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
صحافیوں سے اپنی ایک گفتگو میں ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ جب ہمیں اطمینان ہو جائے گا کہ مذاکرات کے ذریعے ایرانی عوام کے حقوق اور ملک کے اعلیٰ مفادات کا تحفظ ہوگا تو ہم اس عمل میں شرکت سے نہیں ہچکچائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ "سید عباس عراقچی" نے آج تہران میں مقیم بیرونی ممالک کے سفیروں اور نمائندوں کے ساتھ ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے یورپی ممالک کی جانب سے دباو کی پالیسی کے استعمال جیسی دھمکیوں کے بارے میں اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ یورپ نے گزشتہ کئی مہینوں، خاص طور پر حالیہ دنوں میں بارہا "اسنیپ بیک" کے استعمال اور قرارداد 2231 کو منسوخ کرتے ہوئے کونسل کی گزشتہ قراردادوں کو بحال کرنے کی بات کی۔ تاہم میں سمجھتا ہوں کہ یہ عمل یورپ کی جانب سے کی جانے والی سب سے بڑی غلطیوں میں سے ہو گا۔ امریکہ نے بھی غالباََ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کے وقت یہی غلطی کی تھی۔ جس نے جوہری معاملے کو پہلے سے کہیں زیادہ مشکل و پیچیدہ بناتے ہوئے اس کے حل کو مزید مشکل بنا دیا۔اسنیپ بیک کا بھی یہی کردار ہو گا جو معاملے کو مزید پیچیدہ اور مشکل بنا دے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایران کے جوہری معاملے کا نہ تو کوئی فوجی حل ہے اور نہ ہی اس مسئلے کو سلامتی کونسل میں لے جانے سے کوئی پیشرفت ہو گی۔ یہ مسئلہ صرف مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہو سکتا ہے اور مذاکرات بھی ایسے کہ جن میں ایرانی عوام کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔
یہ مفادات خاص طور پر ایران کے جوہری حقوق اور یورینیم کی افزودگی کے استحقاق پر مشتمل ہیں جو کہ بحث کا بنیادی نکتہ بھی ہیں۔ باقی فوجی کارروائی کے ذریعے یہ ٹیکنالوجی، علم اور حق، ایران سے نہیں چھینا جا سکتا۔ وزیر خارجہ سے ایران کی مذاکرات میں واپسی کے لیے مطلوبہ یقین دہانی و ضمانت سمیت مخالف فریق سے کسی اشارے کے ملنے کے بارے میں پوچھا گیا۔ جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم مذاکرات ہی کر رہے تھے کہ اس دوران فوجی مہم جوئی شروع کر دی گئی۔ یہ ایک دھوکہ تھا جو امریکیوں نے نہ صرف ہمیں بلکہ ڈپلومیسی کو بھی دیا۔ اگر وہ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں، جس کے لئے ہمیں متعدد پیغامات بھی موصول ہوئے ہیں تو فطری بات ہے کہ ہمیں یقین دلایا جائے کہ دوبارہ ایسا رویہ نہیں دُہرایا جائے گا اور اگر مذاکرات میں کوئی پیشرفت نہیں ہوتی تو فوجی آپشن زیر غور نہیں ہو گا۔ سید عباس عراقچی نے کہا کہ بین الاقوامی تعلقات میں ضمانت جیسی کوئی چیز نہیں ہوتی اور میں ضمانت کی بات نہیں کر رہا۔ تاہم ہمیں یقین دلایا جائے کہ اس بار ایسا نہیں ہوگا۔ البتہ ہمیں کچھ یقین دہانیاں کروائی گئی ہیں جن پر غور کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ہمیں اطمینان ہو جائے گا کہ مذاکرات کے ذریعے ایرانی عوام کے حقوق اور ملک کے اعلیٰ مفادات کا تحفظ ہوگا تو ہم اس عمل میں شرکت سے نہیں ہچکچائیں گے۔
قریب یا بعید کے امکان کو مدنظر رکھتے ہوئے مذاکرات کے وقت کے بارے میں سید عباس عراقچی نے کہا کہ ہم وقت، مقام، شکل، انتظامات اور ضروری یقین دہانیوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ہمیں بے نتیجہ مذاکرات میں داخل ہونے کی کوئی جلدی نہیں، لیکن ساتھ ہی ہم ایرانی عوام کے مفادات اور حقوق کے تحفظ کے لیے کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے۔ ہم پوری احتیاط سے حالات کی تمام پہلوؤں سے جانچ پڑتال کر رہے ہیں۔ ہم ایران کی عوام کے مفاد کو دیکھ کر کوئی فیصلہ کریں گے۔ سفارت کاری کا دروازہ کبھی بھی بند نہیں ہو سکتا۔ ہم نے ناقابل فراموش مزاحمت کے ساتھ فیصلہ کُن جنگ لڑی، جس میں بلاشبہ اسلامی جمہوریہ ایران اور ہماری عوام کی فتح ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ فاتح کبھی مذاکرات سے نہیں گھبراتا اور جنگ میں کامیابی کے بعد مذاکرات کا سب سے بہترین موقع ہوتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سید عباس عراقچی انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام کے مذاکرات میں مذاکرات کے کے ذریعے نہیں ہو سے نہیں
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔