شاہراہ نورجہاں پرپولیس سے مقابلے میں ملزمان کی شناخت
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی ( اسٹاف رپورٹر) شاہراہِ نور جہاں پولیس مقابلے میں گرفتار ملزمان کی شناخت، سی سی ٹی وی فوٹیج، اور وارداتوں سے متعلق اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ترجمان ایس ایس پی سینٹرل ذیشان شفیق صدیقی کے مطابق گرفتار ملزمان پیشہ ور اسٹریٹ کرمنلز ہیں، جو شہر کے مختلف علاقوں میں درجنوں وارداتوں میں ملوث رہے ہیں۔گزشتہ شب نارتھ ناظم آباد کے علاقے بلاک “یو” میں عبداللہ گرلز کالج کے قریب پولیس اور اسٹریٹ کرمنلز کے درمیان مقابلہ ہوا۔ مقابلے کے دوران ایک ملزم اختر ولد مالک زخمی حالت میں جبکہ اس کا ساتھی امان اللہ ولد مانوس بغیر کسی چوٹ کے گرفتار کر لیا گیا۔ تیسرا ملزم تاج موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا، جس کی تلاش جاری ہے۔پولیس نے ملزمان کی ایک واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کر لی ہے، جس میں ملزم اختر کو واضح طور پر شہریوں کو لوٹتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ فوٹیج کو تفتیش کا حصہ بنا لیا گیا ہے،
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک