موسمیاتی تبدیلی کوئی مفروضہ نہیں، انسانیت کے لیے خطرناک حقیقت ہے، احسن اقبال
اشاعت کی تاریخ: 22nd, July 2025 GMT
وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب ایک مفروضہ نہیں بلکہ انسانیت کے مستقبل کے لیے ایک خوفناک اور سنگین حقیقت بن چکی ہے، جس کے اثرات براہِ راست دنیا بھر کے معاشروں، معیشتوں اور ماحولیاتی نظام پر پڑ رہے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی کے موضوع پر منعقدہ ایک اہم تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ دنیا میں ماحولیاتی انصاف کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ متاثرہ ممالک کے لیے سالانہ 100 ارب ڈالر کی فراہمی کسی پر احسان یا خیرات نہیں، بلکہ یہ ماحولیاتی انصاف کا تقاضا ہے۔
احسن اقبال نے واضح کیا کہ گلوبل ساؤتھ (ترقی پذیر ممالک) سے ہمیشہ “ڈو مور” کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے، لیکن اب وقت آگیا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کو بھی موسمیاتی انصاف کے لیے “ڈو مور” پر مجبور کیا جائے۔
مزید پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی سے 2050 تک مزید 4 کروڑ افراد انتہائی غربت میں جا سکتے ہیں، عالمی بینک
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 7 ہزار سے زائد گلیشیئرز موجود ہیں، جو خطرناک حد تک تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ ان کا پگھلاؤ دریائے سندھ کے آبی نظام کو سنگین خطرے سے دوچار کر رہا ہے، جو ملک کی 90 فیصد زرعی پیداوار کا انحصار ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ گلیشیئرز کی پگھلنے کی موجودہ رفتار گزشتہ 60 برسوں میں بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، جو ایک تشویشناک اشارہ ہے۔ اُن کے مطابق 2022 کے تباہ کن سیلاب موسمیاتی تبدیلی کے خطرات کا واضح ثبوت ہیں، جنہوں نے پاکستان میں انسانی زندگی، معیشت اور انفراسٹرکچر کو شدید متاثر کیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی نے غیر معمولی موسم، شدید بارشوں، سیلاب اور غذائی بحران جیسے مسائل کو جنم دیا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے مربوط عالمی اقدامات کی فوری ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے ماحولیاتی تبدیلی کو اپنی فائیو ایز (5Es) پالیسی اور منصوبہ بندی کا مرکزی جزو بنا دیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے خطرات سے نمٹنے کیلئے دیرپا حکمت عملی اختیار کی جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پروفیسر احسن اقبال موسمیاتی تبدیلی وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پروفیسر احسن اقبال موسمیاتی تبدیلی وفاقی وزیر منصوبہ بندی ترقی و خصوصی اقدامات موسمیاتی تبدیلی وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ
پڑھیں:
20 سال تک بیوی سے بات نہ کرنے والا شوہر، وجہ آپ کو حیران کر دے گی
جاپان (Japan)میں ایک شوہر نے 20 سال تک اپنی بیوی سے بات نہیں کی۔
جاپان سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے کی کہانی نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب سمیٹ لی ہے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جاپان کے جزیرے ہوکائڈوسے تعلق رکھنے والے ایک 18 سالہ نوجوان نے ایک ٹیلی ویژن شو میں ایک غیر معمولی درخواست کی تھی اور ایک ایسے خاندانی مسئلے کے حل کے لیے مدد مانگی جو برسوں پرانا تھا۔
نوجوان میں بتایا کہ اس کے والدین تقریباً 20 سال تک ایک ساتھ رہے لیکن اس نے کبھی اپنے والدین کو آپس میں باقاعدہ گفتگو کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 2 دہائیوں تک شوہر اوکو کاتایاما اور ان کی اہلیہ یومی ایک ہی گھر میں رہے، تین بچوں کی پرورش کی اور ایک ساتھ کھانا کھایا لیکن اس کے باوجود ان کے درمیان شاذ و نادر ہی کوئی بامعنی بات چیت ہوئی۔
مزیدپڑھیں:تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ سے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی میزبانی واپس لے لی گئی
اس خاموشی کی وجہ کوئی تلخ جھگڑا یا بے وفائی نہیں تھی بلکہ شوہر اوکو کاتایاما نے اپنی اہلیہ سے بات کرنا اس لیے چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہ بیوی کی بچوں پر زیادہ توجہ پر حسد محسوس کرتا تھا۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جب بیوی بات کرنے کی کوشش کرتی تو اوکو کاتا یاما عام طور پر صرف سر ہلا کر یا کوئی بے ساختہ جواب دیتا۔
اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے جوڑے کے سب سے چھوٹے بیٹے نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام کے دوران اپنے والدین کے درمیان صلح کروانے میں مدد کی درخواست کی، جس کے بعد شو کی انتظامیہ نے جوڑے کی ملاقات کا انتظام اسی پارک میں کیا جہاں ماضی میں پہلی بار ملے تھے، جبکہ ان کے تینوں بچے کچھ فاصلے سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔
ملاقات کے دوران شوہر نے خاموشی توڑتے ہوئے اپنی اہلیہ سے کہا کہ “ہماری بات چیت ہوئے خاصا عرصہ گزر چکا ہے، تم بچوں کے معاملے میں بہت فکرمند رہتی تھیں، اب تک تم نے بہت مشکلات برداشت کی ہیں اور میں ہر اس چیز کے لیے شکر گزار ہوں”۔