Daily Pakistan:
2026-07-24@12:15:28 GMT

2025 اور اس کے بعد پاکستان مزید ترقی کرے گا: آئی ایم ایف

اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT

2025 اور اس کے بعد پاکستان مزید ترقی کرے گا: آئی ایم ایف

واشنگٹن(ڈیلی پاکستان آن لائن)انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور پاکستان میں 2025 اور اس کے بعد مزید ترقی کی توقع ہے۔
 ڈان نیوزکے مطابق  عالمی مالیاتی فنڈ کے پاکستان میں نمائندے، ماہر بینیچی نے سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹیٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی) میں اپنے لیکچر میں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ (مینا) خطے اور پاکستان میں بدلتے ہوئے معاشی منظرنامے پر روشنی ڈالی اور پاکستان کی معاشی اور موسمیاتی اصلاحاتی ایجنڈے کے لیے فنڈ کی مسلسل حمایت کا اعادہ کیا۔
ایس ڈی پی آئی میں ماہرینِ معیشت، محققین اور پالیسی ماہرین سے خطاب کرتے ہوئے بینیچی نے کہا کہ مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور پاکستان میں ترقی 2025 اور اس کے بعد مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ’ بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی، جغرافیائی سیاسی تقسیم اور عالمی تعاون کی کمزوری عالمی معاشی منظرنامے پر غیر معمولی غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہی ہے جس سے محتاط اور دور اندیش پالیسی اقدامات کی فوری ضرورت اجاگر ہوتی ہے۔’
پاکستان پر بات کرتے ہوئے بینیچی نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (EFF) کے تحت ملک کی کارکردگی ’ اب تک مضبوط رہی ہے’ ، اور انہوں نے مئی 2025 میں آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کی جانب سے پہلے جائزے کی کامیاب تکمیل کو ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔
آئم ایف کے نمائندے نے مزید کہا کہ’ ابتدائی پالیسی اقدامات نے بیرونی چیلنجز کے باوجود معاشی استحکام بحال کرنے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد دوبارہ قائم کرنے میں مدد دی ہے۔’
انہوں نے زور دیا کہ ڈھانچہ جاتی اصلاحات پاکستان کی طویل المدتی معاشی پائیداری کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہیں، خاص طور پر ایسی اصلاحات جو ٹیکس کے نظام میں برابری کو مضبوط بنائیں، کاروباری ماحول کو بہتر کریں اور نجی شعبے کی قیادت میں سرمایہ کاری کو فروغ دیں۔
انہوں نے آئی ایم ایف کے ریزیلیئنس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی (RSF) کے تحت پاکستان کی موسمیاتی اصلاحات کی پیش رفت کو بھی اُجاگر کیا۔ بینیچی کے مطابق، آر ایس ایف ایسے ممالککو مدد فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے تاکہ وہ موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو بہتر بنا سکیں اور بین الاقوامی موسمیای وعدوں کو پورا کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ آر ایس ایف کے تحت اصلاحات کے کلیدی شعبوں میں عوامی سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی کو بہتر بنانا، پانی کے وسائل کے مؤثر اور پائیدار استعمال کو فروغ دینا، آفات سے نمٹنے کی تیاری اور مالی معاونت کے لیے ادارہ جاتی ہم آہنگی کو بہتر بنانا، اور موسمیاتی ڈیٹا کی دستیابی اور شفافیت کو بڑھانا شامل ہیں۔
بینیچی نے زور دیا کہ’ آر ایس ایف کے ذریعے تعاون نہ صرف پاکستان کی موسمیاتی مزاحمت کو مضبوط کرے گا بلکہ سبز سرمایہ کاری کو بھی متحرک کرے گا اور ایک زیادہ ماحول دوست معاشی سمت کو فروغ دے گا۔’
ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے آئی ایم ایف کے نمائندے کی آمد کا خیرمقدم کیا اور پاکستان کے پائیدار ترقی کے سفر میں معلوماتی معاشی مکالمے اور کثیر الجہتی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔
لیکچر کا اختتام مالی اور زری پالیسی کے فریم ورک، بیرونی ذخائر اور جامع ترقی کے فروغ میں بین الاقوامی اداروں کے کردار پر ایک معلوماتی بحث کے ساتھ ہوا۔

’’ ماں کا بچھڑنا انتہائی تکلیف دہ امر ہے‘‘: عظمیٰ  بخاری کامہر بخاری  سے اظہار تعزیت 

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: پاکستان میں اور پاکستان آئی ایم ایف پاکستان کی بینیچی نے انہوں نے کو بہتر نے کہا کہا کہ ایف کے کے لیے

پڑھیں:

بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی

سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا کردار واضح ہے، وزیراعظم
  • پاکستان اور آذربائیجان نے دیرینہ دوستی مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کردیا
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا