ڈیگاری واقعہ — شوبز شخصیات کا غیرت کے نام پر قتل پر شدید ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
بلوچستان کے علاقے ڈیگاری میں غیرت کے نام پر ایک مرد و خاتون کے لرزہ خیز قتل نے ہر طرف غم و غصہ پھیلا دیا ہے ویڈیو وائرل ہونے پر حکام نے ایکشن لیا ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مسلح افراد دونوں کو گولیاں مار کر قتل کر دیتے ہیں اس واقعے پر شوبز انڈسٹری بھی خاموش نہ رہ سکی اداکارہ ہانیہ عامر نے انسٹاگرام پر ایک جملہ شیئر کیا کہ اگر عورتیں غیرت کے نام پر قتل شروع کر دیں تو ایک بھی مرد زندہ نہ بچے ان کا یہ پیغام سادہ مگر بہت پُرتاثیر تھا اداکارہ نعیمہ بٹ نے تصویر کے ساتھ لکھا ڈرپوک دیکھنا ہے؟ وہ دیکھو ہاتھ میں بندوق ہے بہادر دیکھنا ہے؟ وہ دیکھو ہاتھ میں قرآن ہے دونوں اداکاراؤں کی پوسٹس کو سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے سراہا گیا اور قانون کی بالا دستی کا مطالبہ زور پکڑ گیا
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔