دنیا کا سب سے طاقتور پاسپورٹ کون سا ہے اور درجہ بندی میں گرین پاسپورٹ کہاں کھڑا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
2025 کی دوسری ششماہی کے لیے ہینلے اینڈ پارٹنرز کی رپورٹ کے مطابق ایشیا میں سنگاپور کا پاسپورٹ سب سے طاقتور قرار پایا ہے، جس سے 193 ممالک میں بغیر ویزا سفر ممکن ہے۔ دوسرے نمبر پر جاپان اور جنوبی کوریا مشترکہ طور پر ہیں جنہیں 190 ممالک کی ویزا فری رسائی حاصل ہے۔
تیسرے نمبر پر یورپی ممالک جیسے ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس اور جرمنی کے پاسپورٹس ہیں، جن کے حاملین 189 ممالک میں ویزا کے بغیر جا سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی رینکنگ میں بہتری، کتنے ممالک تک بغیر ویزا رسائی ممکن؟
امریکی پاسپورٹ اس فہرست میں 10ویں نمبر پر آ گیا ہے، اور کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ جلد ٹاپ 10 سے باہر ہو سکتا ہے۔
متحدہ عرب امارات اور چین نے گزشتہ دہائی میں اپنی رینکنگ میں زبردست ترقی کی ہے، جبکہ پاکستان دنیا کے کمزور ترین پاسپورٹس میں شامل ہے۔ پاکستانی پاسپورٹ 96ویں نمبر پر ہے اور صرف 32 ممالک میں ویزا فری داخلہ دیتا ہے۔ پاکستان سے نیچے صرف عراق، شام اور افغانستان ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی پاسپورٹ پاکستان جاپان جنوبی کوریا سنگاپور متحدہ عرب امارات ہینلے اینڈ پارٹنرز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی پاسپورٹ پاکستان جاپان جنوبی کوریا سنگاپور متحدہ عرب امارات ہینلے اینڈ پارٹنرز
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔
وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔
تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔
اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔
جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔
جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں