اسرائیل کیخلاف تمام آپشنز زیر غور ہیں، یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, July 2025 GMT
اپنے ایک ٹویٹ میں کایا کیلس کا کہنا تھا کہ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ امدادی مراکز پر عوام کو نشانہ بنانا مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔ اسلام ٹائمز۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ "کایا کیلس" نے کہا کہ بھوکے لوگوں کا قتل کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ غزہ کی پٹی میں امداد کی فراہمی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہیں۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ امدادی مراکز پر عوام کو نشانہ بنانا مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔ کایا کیلس نے ان خیالات کا اظہار سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ٹویٹ میں کیا۔ اس موقع پر انہوں نے نہتے فلسطینی شہریوں کے قتل عام کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسرائیل بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی پابندی نہیں کرتا تو تمام آپشز ہمارے زیر غور ہوں گے۔ یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے برسلز میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے قبل، غزہ کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کایا کیلس نے کہا کہ اس پٹی میں حالات سنگین ہیں اور انسانی صورت حال المناک ہے۔
جب تک یہ صورتحال حقیقی طور پر بہتر نہیں ہوتی، ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے کچھ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ظاہر ہے کہ ابھی تک جنگ بندی نہیں ہوئی اور یہی امر انسان دوست امداد کی ترسیل کو مشکل بنا رہا ہے۔ لیکن ہمیں واقعی عوام کی حالت بہتر بنانے کے لیے کوشش کرنی چاہیے کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ جنگ بندی کب تک عمل میں آئے گی۔ کایا کیلس نے واضح کیا کہ یورپی یونین، اسرائیل کے ساتھ مذاکرات میں کچھ واضح تفاہم تک پہنچی ہے۔ جس پر عمل درآمد کے کچھ مثبت اشارے نظر آ رہے ہیں، جیسے بجلی کی لائنیں بحال کرنا، زیادہ تعداد میں امدادی ٹرکوں کی ترسیل اور بارڈر کراسنگز پر ابتدائی اقدامات۔ تاہم یہ اقدامات کافی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین توقع کرتی ہے کہ اس مسئلے پر مزید پیش رفت ہو گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: یورپی یونین نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
وفاقی آئینی عدالت میں اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کردیے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ عدالت نے کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا، ماریہ شہباز کم عمر ہے اسے ورغلا کر مذہب تبدیلی کرائی گئی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عمر کم بھی ہو تو ایک شادی اگر ہوجائے تو قانون میں اس کا حل کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ شادی کیلئے 18 سال کی عمر کا قانون ہے، قانون کی خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، بچی نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے آئینی عدالت تک کہیں نہیں کہا کہ اس کیساتھ زبردستی ہوئی،
آپ کا اسرار ہے تو اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل سے معاونت لے لیتے ہیں۔
عدالت نے مقدمہ کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی، جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔
آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کی والد کو حوالگی کی درخواست خارج کی تھی، عدالت نے قرار دیا تھا کہ بچی کے تنسیخ نکاح کیلئے سول کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق حبس بیجا اور حوالگی کے کیس میں تنسیخ نکاح کی کارروائی نہیں ہوسکتی