فیضان خواجہ نے شوبز انڈسٹری کی حقیقت سے پردہ اُٹھا دیا ، کیا انکشافات کیے؟
اشاعت کی تاریخ: 22nd, July 2025 GMT
پاکستان شوبز کے اداکار فیضان خواجہ نے انڈسٹری میں فنکاروں کو معاوضے کی عدم ادائیگی پر آواز بلند کردی۔
فیضان خواجہ نے اپنے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ویڈیوز پوسٹ کی ہیں جس میں انہوں نے شوبز انڈسٹری میں غیر پیشہ ورانہ رویوں اور فنکاروں کو معاوضے کی عدم ادائیگی پر کھل کر بات کی ہے۔
A post common by Faizan Khawaja (@faizankhawaja_)
ویڈیو بیان میں انہوں نے کہا کہ وہ کسی کو بدنام کرنے کے لیے بات نہیں کر رہے بلکہ صرف انڈسٹری کا سچ بیان کر رہے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ سینئر اداکار اور ہدایت کار، جیسے محمد احمد اور مہرین جبار بھی اپنے حق کے معاوضے کے لیے پروڈکشن ہاؤسز اور پروڈیوسرز کے پیچھے بھاگنے پر مجبور ہیں۔
A post common by Faizan Khawaja (@faizankhawaja_)
فیضان خواجہ کا کہنا تھا کہ وہ خود ایسی صورتحال سے گزر چکے ہیں جہاں ایک اشتہار کے معاوضے کے لیے انہیں کئی بار یاد دہانی کروانی پڑی۔ فیضان نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف ان کے ساتھ نہیں بلکہ ان تمام محنتی فنکاروں کے ساتھ ہے جنہیں ان کا جائز حق نہیں ملتا۔
انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے اداکاری چھوڑی نہیں بلکہ صرف ایسے پروڈیوسرز کے ساتھ کام کرنا اب بند کر دیا ہے جو انہیں وقت پر ادائیگی نہیں کرتے۔ فیضان خواجہ کی یہ ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔
A post common by Faizan Khawaja (@faizankhawaja_)
ماضی میں کئی ڈراموں میں اداکاری کرنے والے فیضان خواجہ نے گزشتہ کئی عرصے سے ڈرامہ نہیں کیا اور اب انہوں نے پاکستان شوبز کے عدم ادائیگی کے سنگین مسئلے کی حقیقت سے پردہ اُٹھایا ہے جس پر مداحوں اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ان کے اس قدم کو سراہا جا رہا ہے اور کئی شائقین نے انہیں دوبارہ ٹی وی پر دیکھنے کی خواہش کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: فیضان خواجہ نے انہوں نے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔