ممتاز عالم دین نے کہا کہ رہبر معظم نے امت کو سیاسی شعور دیا، مظلوم کی ہمیشہ حمایت کی اور ڈنکے کی چوٹ پر کی، کیا مظلوم کی حامی کی حمایت کرنا یا اس کی تصویر مجلس میں لانا کیسے سیاست ہو گیا؟۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ ایسا کہتے ہیں یا سوچتے ہیں تو وہ دین کی روح سے نابلد ہیں، رہبر کی مخالفت کرنیوالوں کا کھوج لگانا ہوگا کہ ان کی کڑیاں کہاں ملتی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ممتاز عالم دین علامہ حسن ظفر نقوی نے کہا ہے کہ مجلس عزاء میں رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تصاویر لانا سیاست نہیں، بلکہ عین دین ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیرت ہے جو لوگ ایسا سوچتے ہیں کہ رہبر کی تصویر مجلس میں ہو تو سیاست ہوتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ کوئی کرپٹ، بدعنوان اور لٹیرا سیاسی لیڈر اگر مجلس میں آ جائے یا اس کی تصویریں لے کر آ جاو تو یہ سیاست نہیں؟؟ اکثر دیکھا گیا ہے کہ کوئی سیاسی لیڈر اگر مجلس میں آ جائے تو لوگ مجلس چھوڑ کر اس کے آگے پیچھے ہو رہے ہوتے ہیں، یہ چاپلوسی ہی اصل سیاست ہے۔
 
علامہ حسن ظفر نے کہا کہ رہبر معظم نے امت کو سیاسی شعور دیا، مظلوم کی ہمیشہ حمایت کی اور ڈنکے کی چوٹ پر کی، کیا مظلوم کی حامی کی حمایت کرنا یا اس کی تصویر مجلس میں لانا کیسے سیاست ہو گیا؟۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ ایسا کہتے ہیں یا سوچتے ہیں تو وہ دین کی روح سے نابلد ہیں، رہبر کی مخالفت کرنیوالوں کا کھوج لگانا ہوگا کہ ان کی کڑیاں کہاں ملتی ہیں، یہ کون لوگ ہیں جو فلسطین کے مظلوم بچوں کیلئے آواز اٹھانے والوں کیخلاف بول رہے ہیں؟ ایسے عناصر کا محاسبہ کرنا ہوگا۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ مظلوم کی کی تصویر رہبر کی

پڑھیں:

اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ

تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے