نیپوکڈز کی دائی جان! کرن جوہر سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
ہدایتکار موہت سوری کی نئے اداکاروں کو لے کر بنائی گئی فلم "سیارہ” نے باکس آفس پر دھوم مچادی ہے۔
سیارہ کی کامیابی کو اس لیے بھی سراہا جا رہا ہے کہ کیوں کہ فلم کے مرکزی کردار نبھانے والے آہان پانڈے اور انیت شرما کسی سپر اسٹارز کے بچے نہیں ہیں۔
فلم ساز کرن جوہر بھی اس فلم کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکے اور نے انسٹاگرام پر فلم کی تعریفوں کے پل باندھ دیے۔ نوآموز فنکاروں کی تعریف کی اور ڈائریکٹر کو مبارکباد دی۔
جس ایک صارف نے کرن جوہر کو نشانے پر لیتے ہوئے کمنٹ لکھا کہ "آ گیا نیپو کڈ کی دائی جان”۔
صارف نے کمنٹ اس لیے کیا کیوں کہ کرن جوہر کو بھارتی فلم انڈسٹری میں نیپوٹزم یعنی صرف سپر اسٹارز کو ڈیبیو کرانے کا الزام لگایا جاتا ہے۔
کرن جوہر بھی کہاں خاموش رہنے والے تھے فوراً جواب دے مارا کہ "چپ کرو، گھر بیٹھ کر منفی باتیں مت پالو، فلم میں دونوں بچوں کا کام دیکھو اور خود بھی کچھ اچھا کام کرو۔
خیال رہے کہ کرن جوہر جنہیں کسی دور میں "روم کومز” کا بادشاہ کہا جاتا تھا، اب وہ "نیپو کڈز کے گاڈ فادر” کے نام سے مشہور ہیں۔
چاہے عالیہ بھٹ اور ورون دھون کی بات ہو یا اننیا پانڈے اور جھانوی کپور کی، ان سب کو کرن جوہر نے بالی وڈ کی دنیا میں متعارف کرایا۔
حال ہی میں انھوں نے سیف علی خان کے بیٹے ابراہیم علی خان اور سری دیوی کی بیٹی خوشی کپور کو فلم "نادانیاں” کے ذریعے لانچ کیا۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: کرن جوہر
پڑھیں:
ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
ویب ڈیسک :مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے گلگت میں عوامی جلسے سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ میں وہ نواز شریف ہوں جو کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، گلگت بلتستان کی سڑکوں کی حالت دیکھ کر افسوس ہوا،پوچھنا چاہتا ہوں کہ گلگت بلتستان کو نظر انداز کیوں کیا گیا ؟
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
میاں نوازشریف نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی جوش و جذبہ دیکھ کر خوشی ہوئی ،ہم نےگلگت اور ملحقہ علاقوں میں بہترین شاہراہیں بچھائی تھیں۔
چاہتا ہوں جی بی میں ترقی اور لوگوں کو روزگار ملے، 50 ارب روپے کی لاگت سے گلگت سے سکردو تک سڑک تعمیر کی گئی تھی ،گلگت کے عوام کا پیسہ ان پر کیوں نہیں لگایا گیا؟ہم نے ہائیڈرل پاور منصوبے شروع کیے، اب تک مکمل کیوں نہیں ہوئے؟