فرانسیسی صدر کی اہلیہ پیدائشی مرد ہیں؛ ایمانوئیل میکرون کا پوڈکاسٹر پر مقدمہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے امریکی دائیں بازو کی پوڈکاسٹر کینڈیس اووینز کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کر دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ 218 صفحات پر مشتمل مقدمہ امریکی ریاست ڈیلاویئر کی سپیریئر کورٹ میں دائر کیا گیا ہے، جس میں ہرجانہ بھی طلب کیا گیا ہے۔
مقدمے میں کہا گیا ہے کہ پوڈکاسٹر کی طرف سے کی جانے والی یہ مہم واضح طور پر ہمیں اور ہمارے خاندان کو ہراساں کرنے، تکلیف پہنچانے اور خود کو شہرت دلانے کے لیے کی گئی۔ ہم نے انہیں کئی بار موقع دیا کہ وہ اپنے دعوے واپس لیں، لیکن انہوں نے انکار کیا۔
مقدمے میں کہا گیا ہے کہ کینڈیس اووینز نے اپنے پوڈکاسٹ میں اہلیہ بریجیت میکرون کے بارے میں جھوٹ اور توہین آمیز دعوے کیے۔
فرانسیسی صدر نے مقدمے میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ پوڈکاسٹر نے منفی اور بے بنیاد باتیں کرکے ان کی اور ان کی اہلیہ کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ایمانوئیل میکرون اور ان کی اہلیہ کے وکیل نے کہا ہے کہ پوڈکاسٹر نے اپنے یوٹیوب اور پوڈکاسٹ سیریز میں مضحکہ خیز دعویٰ کیا کہ بریجیت میکرون پیدائشی طور پر مرد تھیں۔
جوڑے کے وکیل کے بقول پوڈکاسٹر نے یہ بھی کہا کہ فرانسیسی صدر کی اہلیہ نے کسی اور کی شناخت چُرائی اور بعد میں جنس کی تبدیلی کا آپریشن کروایا۔
علاوہ ازیں اووینز نے میکرونز پر خاندانی رشتے کے باوجود تعلقات رکھنے جیسے سنگین الزامات بھی لگائے۔
دوسری جانب پوڈ کاسٹر اووینز نے مقدمے کو "حقیقت سے عاری" اور ایک "مایوس کن پی آر حکمت عملی" قرار دیا، جس کا مقصد ان کے کردار کو بدنام کرنا ہے۔
پوڈکاسٹر کے ترجمان نے کہا کہ یہ مقدمہ آزادیٔ صحافت پر حملہ ہے اور میکرونز کی جانب سے دباؤ ڈالنے کی ایک کوشش ہے، کیونکہ بریجیت میکرون نے اووینز کے انٹرویو کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔
اووینز کا کہنا تھا کہ انہیں مقدمے کی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی، حالانکہ دونوں فریقوں کے وکلاء جنوری سے رابطے میں تھے۔
دنیا میں یہ ایک نادر واقعہ ہے کہ کسی موجودہ عالمی رہنما نے ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا ہو۔ اس سے قبل سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی مختلف میڈیا اداروں پر ہتک عزت کے دعوے کیے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
امریکی فوج کی جانب سے ایرانی جزیرے قشم پر کارروائی کے دعوے کے بعد ایران نے خطے میں موجود امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے جوابی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق امریکی افواج نے قشم جزیرے میں موجود ایک ایرانی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔
سینٹ کام کے مطابق امریکی اور اتحادی دفاعی نظام نے متعدد ایرانی میزائل اور ڈرون راستے میں ہی تباہ کر دیے۔
امریکی بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے بعض بیلسٹک میزائل اپنے اہداف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔
کویت کی جانب فائر کیے گئے دو میزائل راستے میں گر گئے جبکہ بحرین کی طرف بڑھنے والے تین میزائل امریکی اور بحرینی فورسز نے فضا میں ہی تباہ کر دیے۔
اسی دوران امریکی فوج نے ایک ایسے آئل ٹینکر کو بھی ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جو مبینہ طور پر ایرانی جزیرے خارگ کی جانب رواں تھا۔
امریکی حکام کے مطابق مذکورہ جہاز پر بوٹسوانا کا پرچم لہرا رہا تھا۔
مزید پڑھیںایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
دوسری طرف ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی کارروائی کا فوری جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ قشم میں کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے بعد امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جوابی کارروائی میں بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر، بعض فضائی تنصیبات اور ہیلی کاپٹر مراکز کو ہدف بنایا گیا۔
پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں کا جواب دینا ناگزیر تھا اور خطے میں کسی بھی جارحیت کا بھرپور ردعمل دیا جائے گا۔
عرب میڈیا کے مطابق بحرین، کویت اور عراق میں سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے جبکہ بحرین کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے۔
بحرینی وزارتِ داخلہ نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ادھر ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد پاسداران انقلاب نے ایک بحری جہاز پر میزائل حملہ کیا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی قیمت امریکا کو چکانا پڑے گی۔