اسرائیل میں ایک تیز رفتار کار فوجیوں پر چڑھ دوڑی
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
صیہونی فوج نے تصدیق کی ہے کہ کارسوار کے حملے زخمی ہونے والے 8 افراد فوجی اہلکار ہیں، جن میں سے 5 کی حالت نازک ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل کے وسطی علاقے میں ایک تیز رفتار کار نے متعدد فوجیوں کو کچل دیا جسے دہشت گرد حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ شہر نتانیا کے قریب داخلی راستے پر ایک چوکی پر پیش آیا، حملہ آور کار سوار جائے وقوعہ سے فرار ہوگیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق گاڑی کے مالک کی شناخت کر لی گئی جو ایک اسرائیلی شہری ہے تاہم ممکنہ طور پر گاڑی چوری کی گئی تھی۔ پولیس اور سیکیورٹی اداروں نے کار سوار کی تلاش کے لیے ایک بڑا سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ کار کے مالک سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور مغربی کنارے کے علاقے بیت لید میں کار کو چھوڑ کر فرار ہوگیا۔ کار کو تحویل میں لے لیا گیا اور کار سوار کی تلاش تاحال جاری ہے۔ ایمبولینس سروس کے مطابق زخمیوں کو فوری طور پر ہیلیل یافے میڈیکل سینٹر، ہادیرہ، اور لینیادو اسپتال، نتانیا منتقل کر دیا گیا۔ اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ کارسوار کے حملے زخمی ہونے والے 8 افراد فوجی اہلکار ہیں، جن میں سے 5 کی حالت نازک ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
پشاور:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔