اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا اکاؤنٹ کھولنے کے عمل کو آسان بنانے کا فریم ورک متعارف
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے انفرادی صارفین اور تاجروں کے لیے اکاؤنٹ کھولنے کے عمل کو آسان بنانے کے لیے ایک جامع فریم ورک متعارف کرا دیا ہے، جس کا مقصد مالی شمولیت اور ڈیجیٹل رسائی کو فروغ دینا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق، نیا فریم ورک اکاؤنٹ کھولنے کے عمل کو معیاری، سادہ اور تیز تر بنائے گا، دستاویزی تقاضوں کو کم کرے گا، اور یہ یقینی بنائے گا کہ دو کام کے دنوں کے اندر اکاؤنٹ کھل جائے۔
یہ بھی پڑھیے: اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ
صارفین اپنے اکاؤنٹ کی درخواست کی حیثیت کو بھی ٹریک کر سکیں گے، جس سے یہ عمل مزید شفاف اور صارف دوست بن جائے گا۔
آن بورڈنگ سسٹم کو مزید محفوظ اور مؤثر بنایا گیا ہے، جس کے تحت تمام اقسام کے بینک اکاؤنٹس آن لائن کھولے جا سکیں گے۔
اسٹیٹ بینک نے تمام بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ تمام تاجروں کو کم از کم ایک ڈیجیٹل ادائیگی کا طریقہ مہیا کریں، اور نئے کاروباری افراد کے لیے اکاؤنٹ کھلوانے کا عمل سہل بنائیں۔
یہ بھی پڑھیے: آٹو فنانسنگ میں 20 فیصد کی لمبی چھلانگ،اسٹیٹ بینک نے ڈیٹا جاری کردیا
یہ اقدامات اسٹیٹ بینک کی جاری کوششوں کا حصہ ہیں جن کا مقصد غیر بینک شدہ آبادی اور غیر رسمی تاجروں کو باضابطہ بینکاری نظام میں لانا اور نقدی پر مبنی لین دین کی جگہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دینا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسٹیٹ بینک اکاؤنٹ بینک معیشت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹیٹ بینک اکاؤنٹ اسٹیٹ بینک کے لیے
پڑھیں:
محبوبہ مفتی کا نئی دلی سے مذاکرات کیلئے متحدہ سیاسی محاذ بنانے پر زور
انہوں نے لداخ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں لہہ اور کارگل کے رہنمائوں نے علاقائی اور مذہبی اختلافات کے باوجود مشترکہ طور پر اپنے حقوق اور آئینی تحفظات کے لیے آواز بلند کی۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دیں تاکہ نئی دہلی کے ساتھ سیاسی مذاکرات کے لیے سازگار فضا قائم ہو سکے۔ذرائع کے مطابق سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر کے سیاسی مسائل کے حل کا واحد راستہ بامعنی سیاسی مذاکرات اور مسلسل رابطہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو مشترکہ حکمتِ عملی اپناتے ہوئے ایک متحد موقف اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے لداخ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں لہہ اور کارگل کے رہنمائوں نے علاقائی اور مذہبی اختلافات کے باوجود مشترکہ طور پر اپنے حقوق اور آئینی تحفظات کے لیے آواز بلند کی۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرز پر جموں و کشمیر میں بھی ایک اجتماعی سیاسی نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن جیسے پلیٹ فارمز کی طرز پر دوبارہ سیاسی اتحاد قائم کیا جانا چاہیے تاکہ مودی حکومت کے ساتھ مذاکرات شروع کئے جا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشکل اور کشیدہ حالات میں بھی سیاسی رابطے اور بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے کی کوششیں جاری رہنی چاہیں۔ کشمیری عوام چاہتے ہیں کہ منتخب عوامی نمائندے ان کے سیاسی حقوق اور وقار کی بحالی کے لیے بھی کردار ادا کریں۔ محبوبہ مفتی نے کشمیری نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی اور بیگانگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور اعتماد سازی کے اقدامات پر زور دیا۔ انہوں نے شہری علاقوں میں تعینات قابض بھارتی فورسز کی تعداد کم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کشمیری نظربندوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ریلیف فراہم کرنے کی بھی اپیل کی۔