امریکی ریسلر ہوگن کی موت کے بعد اہلیہ کی جذباتی پوسٹ وائرل
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
معروف امریکی ریسلر ہلک ہوگن کی موت کے بعد ان کی اہلیہ اسکائی ڈیلی کی شوہر کے حوالے سے کی گئی جذباتی پوسٹ وائرل ہوگئی۔2 روز قبل لیجنڈ ریسلر ہلک ہوگن کا انتقال فلوریڈا میں ان کی رہائش گاہ پر دل کا دورہ پڑنے سے ہوا۔بتایا گیا تھا کہ ہوگن نے گزشتہ ماہ دل کی سرجری کرائی تھی اور وہ حالیہ ہفتوں میں صحت یاب ہورہے تھے۔ہوگن کی موت نے جہاں ان کے مداحوں کو گہرے صدمے سے دوچار کیا وہیں ان کے اہل خانہ بھی اس غم سے باہر نہیں آسکے ہیں۔حال ہی میں ہوگن کی اہلیہ نے شوہر کی موت اور موت سے قبل صحت کے حوالے سے جذباتی پوسٹ شیئر کی۔اسکائی ڈیلی نے شوہر کی موت کے حوالے سے لکھا کہ ’میں اس کے لیے تیار نہیں تھی، میرا دل ٹکڑے ٹکڑے ہوچکا ہے، دنیا کے لیے وہ ایک لیجنڈ تھا لیکن میرے لیے، وہ میرا Terry تھا ، وہ انسان جس سے میں پیار کرتی تھی جو میرا دل اور میرا ساتھی تھا‘۔انہوں نے لکھا کہ ’ہوگن صحت سے متعلق چند مسائل کا شکار تھے لیکن مجھے یقین تھا کہ ہم ان تکلیفوں پر قابو پالیں گے، مجھے اس کی طاقت پر بہت بھروسہ تھا اور میں نے سوچ لیا تھا کہ ہمارے پاس ابھی زیادہ وقت ہے لیکن ہوگن کی موت اچانک ہوئی جس کے ساتھ آگے بڑھنا ناممکن ہے‘۔اسکائی ڈیلی نے اپنی پوسٹ میں بتایا کہ ‘ہلک اپنے مداحوں سے بے حد پیار کرتے تھے، جسمانی تکلیف کے باوجود وہ مداحوں سے ملاقات ، ان کیلئے آٹوگراف، ان کے ساتھ تصاویر لینے حتیٰ کہ ان سے ملنے کی ہر ممکن کوشش کرتے رہے‘۔واضح رہے کہ ہلک ہوگن نے پہلی شادی لنڈا ہوگن سے 1983 میں کی تھی جو 2009 تک چلی، اس کے بعد ہلک کی دوسری اہلیہ جینیفر میک ڈینیل تھیں جن ان کا ازدواجی تعلق 2010 سے 2021 تک رہا۔اسکائی ڈیلی ہلک ہوگن کی تیسری اہلیہ ہیں، ان دونوں کی شادی ستمبر 2023 میں ہوئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اسکائی ڈیلی ہوگن کی موت ہلک ہوگن
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔