’جنگ چھوڑو، تجارت کرو‘ ٹرمپ کی تنبیہ کے بعد تھائی لینڈ جنگ بندی پر آمادہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
تھائی لینڈ نے کمبوڈیا کے ساتھ جاری سرحدی جھڑپوں کے خاتمے کے لیے جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق، تھائی حکومت کی طرف سے یہ بیان قائم مقام وزیرِاعظم پھمتھم وچھایا چھائی کی جانب سے سامنے آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے تھائی لینڈ، کمبوڈیا لڑائی نے پاک بھارت تنازع کی یاد دلا دی، جنگ بندی کا خواہاں ہوں، ٹرمپ
پھمتھم وچھایا چھائی نے کہا کہ ’اگر دوسرا فریق سنجیدگی کا مظاہرہ کرے اور جنگ بندی کے لیے حقیقی نیت رکھتا ہو تو ہم بھی مکمل طور پر تیار ہیں۔‘
امریکی صدر ٹرمپ کی ثالثی کی کوششاس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان جنگ بندی کرانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ صدر ٹرمپ کے مطابق، انہوں نے دونوں ممالک کے رہنماؤں سے ٹیلیفون پر گفتگو بھی کی ہے تاکہ سرحدی کشیدگی کا پُرامن حل نکالا جا سکے۔ انہوں نے دونوں ملکوں کی قیادت کو تنبیہ کہی تھی کہ جنگ بندی نہ کی تو سخت تجارتی پابندیاں عائد کروں گا۔
سرحدی جھڑپیں: 30 سے زائد ہلاکتیںواضح رہے کہ گزشتہ 3 روز سے تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان سرحدی علاقوں میں شدید جھڑپیں جاری ہیں، جن میں اب تک دونوں جانب سے 30 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ جھڑپوں میں درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جبکہ سرحدی علاقوں میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔
یہ بھی پڑھیے تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کا سرحدی تنازع شدت اختیار کر گیا، ایک دوسرے پر فضائی حملے اور راکٹ باری
بین الاقوامی برادری کی جانب سے دونوں ممالک پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی کریں اور بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
تھائی لینڈ کمبوڈیا جنگ ڈونلڈ ٹرمپ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تھائی لینڈ کمبوڈیا جنگ ڈونلڈ ٹرمپ تھائی لینڈ
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔