امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان جاری جنگ ختم کروانے کے لیے تجارتی دباؤ ڈالنے کا امکان ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ انہیں پاک انڈیا تنازع کی یاد دلاتی ہے۔

ٹرمپ نے ہفتے کے روز اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر متعدد پوسٹس میں کہا کہ انہوں نے دونوں ممالک کے رہنماؤں سے بات کی ہے اور انہیں تنبیہ کی ہے کہ اگر جنگ ختم نہ ہوئی تو امریکا دونوں پر سخت تجارتی پابندیاں عائد کرے گا۔

یہ بھی پڑھیے: پاک انڈیا کشیدگی، بھارت امریکی صدر کی ثالثی کی کوششوں کو جھٹلانے لگا

انہوں نے لکھا، ‘دونوں فریق فوری جنگ بندی اور امن کے خواہاں ہیں۔ وہ امریکا کے ساتھ دوبارہ تجارتی بات چیت کرنا چاہتے ہیں، جو ہم اس وقت تک مناسب نہیں سمجھتے جب تک لڑائی بند نہ ہو۔’

ٹرمپ نے سب سے پہلے کمبوڈیا کے وزیرِاعظم ہون مانیت سے بات کی اور جنگ کے خاتمے پر زور دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر دونوں ممالک نے امن معاہدے پر اتفاق نہ کیا تو وہ کسی سے بھی کوئی تجارتی ڈیل نہیں کریں گے۔

بعد ازاں، انہوں نے تھائی لینڈ کے قائم مقام وزیراعظم ویچایاچائی سے بھی بات کی اور انہیں فوری جنگ بندی پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔

ٹرمپ نے اس صورتحال کا موازنہ بھارت اور پاکستان کے درمیان اس سال کے آغاز میں امریکا کی ثالثی سے ہونے والے جنگ بندی معاہدے سے کیا  اور کہا کہ اس جنگ میں بہت سے لوگ مارے جا رہے ہیں لیکن یہ مجھے بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والے تنازع کی بہت یاد دلاتی ہے، جسے کامیابی سے روکا گیا تھا۔

یاد رہے کہ امریکا نے حال ہی میں کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کی بیشتر برآمدات پر 36 فیصد ٹیرف نافذ کیا ہے، جو یکم اگست سے مؤثر ہو گا۔ دونوں ممالک کے درمیان جھڑپیں 3 دن سے جاری رہیں، جن میں اب تک کم از کم 33 افراد ہلاک اور 1 لاکھ 68 ہزار سے زائد بے گھر ہو چکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک بھارت تنازع تجارت تھائی لینڈ جنگ بندی ڈونلڈ ٹرمپ کمبوڈیا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاک بھارت تنازع تھائی لینڈ ڈونلڈ ٹرمپ کمبوڈیا تھائی لینڈ کے درمیان انہوں نے

پڑھیں:

ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار