پاکستان کے سب سے بڑے ڈیجیٹل اسکلز پروگرام ڈیجی اسکلز کا تیسرا مرحلہ بالآخر لانچ کر دیا گیا ہے۔ ایک سال کی تاخیر کے بعد اِگنائٹ نیشنل ٹیکنالوجی فنڈ نے ڈیجی اسکلز 3.0 کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، جس کا مقصد آئندہ ساڑھے 3 برسوں میں ملک بھر کے نوجوانوں کو 30 لاکھ مفت تربیتیں فراہم کرنا ہے۔

پروگرام کا پہلا بیچ یکم اگست سے شروع کیا جائے گا، جس میں 3 لاکھ نشستیں دستیاب ہوں گی۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ داخلے پہلے آئیے، پہلے پائیے کی بنیاد پر دیے جائیں گے اور نشستوں کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا جائے گا، اس لیے خواہشمند افراد فوری رجسٹریشن کروائیں۔

 15 پرانے کورسز + 10 نئے کورسز شامل

ڈیجی اسکلز 3.

0 میں پہلے سے موجود 15 کورسز جیسے فری لانسنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، گرافک ڈیزائننگ، SEO، ورڈپریس اور کریئیٹو رائٹنگ کو اپ ڈیٹ کر کے بین الاقوامی مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق ڈھالا گیا ہے۔
اس کے علاوہ 10 نئے ہائی ڈیمانڈ کورسز بھی شامل کیے گئے ہیں جن میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI)، UI/UX ڈیزائن، موبائل ایپ ڈیولپمنٹ جیسے جدید موضوعات شامل ہیں۔

 تاخیر کی وجوہات

ڈیجی اسکلز 3.0 کی لانچ میں ایک سال کی تاخیر پر شدید تنقید ہوئی، خاص طور پر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کے مئی 2025 کے اجلاس میں۔
کمیٹی کے چیئرمین سید امین الحق نے اس تاخیر کو ’جدید ٹیکنالوجیز کے دور میں ایک ضائع شدہ موقع‘ قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیے نوجوانوں کے لیے خوشخبری، ڈیجیٹل تربیتی پروگرام کے دوسرے مرحلے کا آغاز

اِگنائٹ حکام نے تسلیم کیا کہ تاخیر ہوئی، لیکن اس کی وجہ پروگرام کو جدید خطوط پر استوار کرنا تھا۔ اس تاخیر کی بڑی وجہ نئے سی ای او کی عدم تقرری اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کی غیر فعالیت بھی تھی، جو وفاقی سیکریٹری آئی ٹی کی سربراہی میں کام کرتا ہے۔

 نئی منظوری، نئی جہتیں

گزشتہ ماہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس میں بالآخر کئی زیر التواء منصوبوں، بشمول ڈیجی اسکلز 3.0، کی منظوری دی گئی۔ اِگنائٹ حکام کے مطابق یہ وقفہ دراصل ایک موقع تھا کہ کورسز کو عالمی تقاضوں کے مطابق جدید بنایا جائے اور نوجوانوں کو نئی مہارتیں سکھائی جائیں۔

 پس منظر

ڈیجی اسکلز پروگرام کا آغاز اگست 2018 میں وزارت آئی ٹی و ٹیلی کام کے تحت کیا گیا تھا، جبکہ ورچوئل یونیورسٹی آف پاکستان اس کا عملی شراکت دار ہے۔
پہلے 2 مراحل میں مجموعی طور پر 45 لاکھ سے زائد افراد کو تربیت دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: ہواوے 3 لاکھ پاکستانی نوجوانوں کو ڈیجیٹل تربیت فراہم کرےگا، وزیراعظم کو بریفنگ

رجسٹریشن کے لیے وزٹ کریں: www.digiskills.pk
(نوٹ: لنک صرف مفادعامہ کے تحت شامل کیا گیا ہے)

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ٹریننگ ڈیجی اسکلز ڈیجیٹل اسکلز

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ڈیجی اسکلز ڈیجیٹل اسکلز

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • آزادکشمیرکے ضلع میرپور میں انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع