علی امین گنڈاپور کا اشتہاری کا اسٹیٹس برقرار، اسلام آباد پولیس کو گرفتار کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
اسلام آباد:
انسداد دہشت گردی عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی نااہلی پر احتجاج کے مقدمے میں علی امین گنڈا پور کی اشتہاری حیثیت ختم کرنے سے انکار کرتے ہوئے ان کے وارنٹ گرفتاری برقرار رکھے ہیں۔
عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے اسلام آباد پولیس کو حکم دیا ہے کہ وہ علی امین گنڈا پور کو گرفتار کرے، تاہم اگر پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے کوئی حکم موجود ہے تو اس پر بھی عمل درآمد کیا جائے۔
واضح رہے کہ تھانہ انڈسٹریل ایریا میں علی امین گنڈا پور سمیت دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج ہے۔ ملزمان پر بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی نااہلی کے بعد اسلام آباد میں احتجاج کرنے کا الزام ہے۔
سماعت کے دوران پی ٹی آئی رہنما فیصل جاوید خان سمیت دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے وکلا کی درخواست پر سماعت ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت 6 اگست مقرر کر دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ علی امین گنڈا پور کی عدم پیشی پر ان کی گرفتاری کے احکامات جاری رہیں گے، جب کہ عدالت نے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ وہ قانونی تقاضوں کے مطابق کارروائی کرے۔
دوسری جانب انسداددہشت گردی عدالت اسلام آباد نے پی ٹی آئی رہنماؤں کیخلاف 18 مارچ احتجاج کا کیس میں فیصل آباد سے ایم این اے علی افضل ساہی کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔
انسداددہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ آج تک علی افضل ساہی اس عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ عدالت نے تھانہ گولڑہ میں درج مقدمے میں پی ٹی آئی کے غیر حاضر دیگر کارکنان کے بھی وارنٹ گرفتاری جاری کردیے اور سماعت 9 اگست تک ملتوی کردی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: علی امین گنڈا پور وارنٹ گرفتاری اسلام آباد پی ٹی آئی عدالت نے
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔