اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس، اسلام آباد کی ہوٹل انتظامیہ نے بکنگ کینسل کردی
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 جولائی 2025ء ) تحریک تحفظ آئین پاکستان کی طرف سے ہونے والی اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس سے قبل اسلام آباد کے ہوٹل نے بکنگ کیسنل کردی۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ٹیولپ ہوٹل میں آج اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس ہونی تھی لیکن انتظامیہ نے بُکنگ منسوخ کر کے ہوٹل کو تالے لگوا دیئے، جس کے بعد حزب اختلاف اتحاد کے رہنما ہوٹل کے باہر جمع ہوگئے اور اس موقع پر تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہوٹل انتظامیہ پر دباؤ ہے لیکن آج ہر صورت اے پی سی ہوگی، حافظ عاصم منیر آپ اور آپ کی ریجیم اس بات کا کیا جواب دے گی؟ لوگوں کے چھوٹے چھوٹے بچے مر رہے ہیں، ہم سب مسلمان خدا کو ماننے والے ہیں، کیا آپ قیامت پر یقین رکھتے ہیں؟۔
(جاری ہے)
سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا کہ اسی شاہراہِے دستور پر عمران خان کے دور میں جب پی ڈی ایم آ کر جلسے احتجاج کانفرنس کرتی تھی تو میں تب سب سے آگے ہوتا تھا، ہم نے کسی ایک بھی پروگرام کی اجازت نہیں لی تھی اور نہ ہی ہمیں پولیس نے کبھی تنگ کیا تھا، اس وقت کی طرح اب بھی ہمیں کانفرنس کرنے دی جائے، 2024ء کا الیکشن خاموش انقلاب تھا مینڈیٹ چوری کیا گیا بدترین دھاندلی کی گئی سندھ میں کرپشن پچھلے 50 سال کی تاریخ کی سب سے زیادہ ہے۔ نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کہتے ہیں کہ پورا پاکستان ایک ہی طرز کی غلامی میں دے دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے سیاست، جمہوریت اور تمام آئینی جدوجہد کو دیوار سے لگا یا جارہا ہے، لاپتہ زندہ افراد جو غائب کر دیئے گئے ہیں ان کے خاندان بلک رہے ہیں، ان کی آواز کو سننا چاہیئے، یہ عیاشیاں، مفت خوری اور قومی خرانے پر جو لوٹ مار ہے یہ عوام پر ایک عذاب بنی ہوئی ہے، اپوزیشن جماعتوں کا حق ہے کہ وہ کانفرنس کریں لیکن یہاں جمہوری حق استعمال کرنے سے اپوزیشن کو روکا جا رہا ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اسلام آباد
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔