لکی مروت: مارٹر گولا پھٹنے سے 5 بچے جاں بحق، 12 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, August 2025 GMT
ویب ڈیسک:خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت کے تھانہ صدر کی حدود میں افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے، جہاں ایک مارٹر گولا پھٹنے سے5 بچے جاں بحق اور ایک خاتون اور 11 دیگر بچے شدید زخمی ہو گئے۔
پولیس کے مطابق یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب بچوں کو ایک کھلے میدان سے مارٹر گولا ملا، جسے وہ نادانی میں اٹھا کر گھر لے آئے۔ گھر پہنچنے کے بعد گولہ اچانک پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں خوفناک دھماکہ ہوا۔
راولپنڈی ایکسپریس ٹرین کو حادثہ
ترجمان ریسکیو کے مطابق دھماکے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ایمبولینسز جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور زخمیوں و جاں بحق بچوں کو فوری طور پر قریبی سٹی ہسپتال منتقل کیا گیا۔ اسپتال ذرائع نے تصدیق کی کہ 12 زخمیوں میں زیادہ تر بچے ہیں، جن میں کچھ کی حالت تشویش ناک ہے۔
دوسری جانب سٹی ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے اور تمام سٹاف کو فوری طور پر ہسپتال پہنچنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
این ایس سٹی اسپتال کا کہنا ہے کہ اب تک 17 افراد کو اسپتال لایا گیا ہے، جن میں سے پانچ جاں بحق جبکہ 12 زخمی ہیںم انہوں نے کہا کہ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
رنگ روڈ بند کرنے کا فیصلہ
پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ بھی علاقے میں مزید مارٹر شیلز کی موجودگی کا جائزہ لے رہا ہے۔ واقعے پر مقامی افراد میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
چیک ریپبلک کے مشرقی حصے میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہو گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چیک وزارتِ دفاع اور فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثہ بدھ کے روز نامیشت ناد اوسلاوو ایئر فورس بیس پر پیش آیا جو دارالحکومت پراگ سے تقریباً 180 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔
حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر UH-1Y Venom تھا، جس میں مجموعی طور پر 5 فوجی اہلکار سوار تھے۔ حادثے میں ایک اہلکار موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا جبکہ تین زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیلی کاپٹر معمول کی فوجی تربیتی سرگرمی کے سلسلے میں پرواز کر رہا تھا، تاہم حکام نے ابھی تک اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے فوج نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی ہیں۔
چیک حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں، آیا حادثہ تکنیکی خرابی، موسمی حالات یا انسانی غلطی کے باعث پیش آیا۔ تحقیقات کے نتائج سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔