امریکی نمائندے کا دورہ غزہ اسرائیل کے مجرمانہ اقدامات پر پردہ ڈالنے کی کوشش قرار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, August 2025 GMT
اسلامی مزاحمت کی تنظیم حماس نے اپنے بیانیے میں امریکہ کے خصوصی ایلچی اسٹیو ویٹکوف کے دورہ غزہ کو عالمی رائے عامہ کو دھوکہ دینے کے لیے ڈرامہ بازی قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ غزہ کے خلاف جاری محاصرے اور فلسطینیوں کی نسل کشی میں برابر کا شریک ہے۔ اسلام ٹائمز۔ فلسطین میں اسلامی مزاحمت کی تنظیم حماس نے امریکہ کے خصوصی ایلچی اسٹیو ویٹکوف کے دورہ غزہ کے بارے میں بیانیہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ "غزہ ہیومنیٹیرین فاونڈیشن" نامی امریکی اسرائیلی ادارہ صرف عالمی رائے عامہ کو فریب دینے کے لیے بنایا گیا ہے اور اس کا مقصد اسرائیل کو غزہ میں بے دفاع بچوں اور شہریوں کا قتل عام جاری رکھنے کے لیے چھتری فراہم کرنا ہے۔ اس بیانیے میں مزید کہا گیا ہے: "اسٹیو ویٹکوف کے فریب کاری پر مبنی بیانات اور اس کے ہمراہ تصاویر کی اشاعت کا مقصد غزہ میں امداد رسانی کے عمل کو پرامن ظاہر کرنا ہے جو تلخ زمینی حقائق سے مکمل تضاد رکھتا ہے کیونکہ 1300 سے زیادہ بھوکے اور نہتے فلسطینی شہری انسانی امداد کے اسی نام نہاد انسانی امداد کے مرکز میں اسرائیلی فوجیوں کی گولیوں کا نشانہ بن کر شہید ہو چکے ہیں۔" حماس نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ یہ ادارہ دراصل فلسطینی قوم کی نسل کشی اور قتل عام جاری رکھنے کا ایک ذریعہ ہے، کہا: "امریکہ غزہ کے خلاف محاصرے اور فلسطینیوں کی نسل کشی میں برابر کا شریک ہے جو پوری دنیا کی آنکھوں کے سامنے جاری ہے۔ ہم امریکی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی تاریخی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے غاصب صیہونی رژیم کا ساتھ دینا ختم کر دے اور غزہ میں جنگ بندی کی کوشش کرے۔"
حماس نے اپنے بیانیے میں خبردار کیا کہ امریکہ کی جانب سے موجودہ پالیسیاں جاری رکھے جانے کی صورت میں نہ صرف غزہ میں انسانی صورتحال مزید نازک ہو جائے گی بلکہ پورے خطے میں امن اور استحکام خطرے کا شکار ہو جائے گا۔ یہ بیانیہ جمعہ کے روز امریکی ایلچی اسٹیو ویٹکاف کے دورہ غزہ کے بعد جاری ہوا ہے۔ ویٹکاف نے اس دورے میں امریکی اسرائیلی انسانی امداد کے مرکز کا دورہ کیا۔ حماس کے سیاسی رہنما عزت الرشق نے بھی اسٹیو ویٹکاف کے دورے کو ایک ڈرامہ بازی قرار دیا اور کہا: "اس ڈرامہ بازی کا مقصد غزہ میں فلسطینیوں پر بھوک مسلط کرنے میں اسرائیل کو امریکی تعاون پر عوامی غصے کو ٹھنڈا کرنا ہے۔" انہوں نے مزید کہا: "وائٹ ہاوس نے کئی بار انکار کے بعد غزہ میں قحط اور بھوک کا اعتراف کیا ہے لیکن اب تک غاصب صیہونی رژیم کی مذمت بھی نہیں کی جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مجرم صیہونی رژیم کا جرم دھونے اور اس کی سیاسی حمایت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔" دوسری طرف غزہ میں مختلف تنظیموں، قبیلوں اور گروہوں نے امریکی ایلچی اسٹیو ویٹکوف کے دورہ غزے کی مخالفت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس دورے کا واحد مقصد غاصب صیہونی رژیم کی فیس سیونگ اور عالمی رائے عامہ تبدیل کرنے کی خاطر تصاویر کی اشاعت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: صیہونی رژیم کے دورہ اور اس غزہ کے
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔