اسلام آباد: صدر آصف زرداری اور ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی ایوان صدر میں ملاقات ہوئی، ایوانِ صدر میں انکا پُرتپاک خیرمقدم کیا گیا۔ صدر آصف زرداری نے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا ایوانِ صدر میں پُرتپاک خیرمقدم کیا، اس موقع پر پاکستان اور ایران نے دو طرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا، دونوں ممالک نے وسیع اور باہمی فائدے کے شعبوں میں تعلقات بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔پاکستان اور ایران کے صدور کا علاقائی اور عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال بھی ہوا.

دونوں رہنماؤں نے تنازعات بڑھنے سے روکنے اور امن کیلئے مربوط کوششوں کی ضرورت پر بھی زور دیا۔صدر آصف زرداری نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے برادرانہ تعلقات مشترکہ مذہب، ثقافت اور باہمی احترام پر مبنی ہیں، پاکستان اور ایران خطے کے پُرامن اور خوشحال مستقبل کیلئے ملکر کام جاری رکھیں گے۔آصف علی زرداری نے علاقائی معاملات پر ایران کے اصولی مؤقف کو سراہا، انھوں نے خطے میں تعاون کے لیے تہران کی مستقل حمایت پر اظہار تشکر کیا۔صدر نے آیت اللہ خامنہ ای کی جانب سے جموں کشمیر پر بھارتی غیرقانونی قبضے کیخلاف عوام کی حمایت پر شکریہ ادا کیا، آصف زرداری نے ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی سخت مذمت کی۔پاکستانی صدر نے 12 روزہ جنگ کے دوران ایرانی قوم کی جرات اور اتحاد کو خراجِ تحسین پیش کیا. آصف زرداری نے مشکل وقتوں میں ایران کی یکجہتی پر شکریہ بھی ادا کیا۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: پاکستان اور ایران ایران کے

پڑھیں:

ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • کشمیر کا فیصلہ صرف کشمیری عوام کا حق ہے: بلاول بھٹو زرداری
  • ایران پر امریکی حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 55 ہو گئی، 645 زخمی
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی