سٹی 42 : صدر مملکت آصف علی زرداری سے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی ایوانِ صدر میں ملاقات ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔

صدر آصف علی زرداری نے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا ایوانِ صدر میں پُرتپاک خیرمقدم کیا۔ ملاقات میں پاکستان اور ایران کا دو طرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ دونوں ممالک نے وسیع اور باہمی فائدے کے حامل شعبوں میں تعلقات بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا ۔ دونوں رہنماوں نے تنازعات کو بڑھنے سے روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے   مربوط سفارتی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ 

محدود مدت تک عجائب گھروں میں داخلہ مفت؛ حکومت نے بڑا اعلان کردیا

 صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے برادرانہ تعلقات مشترکہ مذہب، ثقافت اور باہمی احترام پر مبنی ہیں۔ صدرِ مملکت نے علاقائی معاملات پر ایران کے اصولی مؤقف کو سراہا ۔ انہوں نے خطے میں تعاون کے لیے تہران کی مستقل حمایت اور مشکل وقتوں میں ایران کی یکجہتی پر شکریہ ادا کیا ۔

صدرِ مملکت نے کہا کہ پاکستان اور ایران خطے کے پُرامن اور خوشحال مستقبل کے لیے مل کر کام جاری رکھیں گے۔ صدر آصف علی زرداری نے رہبرِ معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کا  جموں کشمیر پر بھارتی غیر قانونی قبضے کے خلاف عوام کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا ۔انہوں نے ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی سخت مذمت کی ۔ 

سابق وزیراعظم پرسوشل میڈیا پوسٹ کی وجہ سے فرد جرم عائد

صدرِ مملکت نے 12 روزہ جنگ کے دوران ایرانی قوم کی جرات اور اتحاد کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ صدر آصف علی زرداری نے امید ظاہر کی کہ صدر پزشکیان کا دورہ برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا۔ 

ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے 12 روزہ جنگ کے دوران پاکستان کی قیادت اور عوام کی حمایت پر شکریہ ادا کیا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کشیدگی میں کمی اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے تعمیری کردار ادا کیا ۔ 

چینی بحران ؛ حکومت نے 2 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کا آرڈر دے دیا

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: صدر آصف علی زرداری نے ایران کے ادا کیا کے لیے

پڑھیں:

وزیر تجارت سے کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے پاکستان کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد نے ملاقات کی اور انہیں علاقائی تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے قالینوں کی صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا ۔ جمعے کو جاری بیان کے مطابق ملاقات میں وزیر تجارت نے ہاتھ سے بنے قالینوں کی برآمدات بڑھانے اور عالمی مسابقت بہتر بنانے کے اقدامات پر تفصیلی بات چیت کی اورپاکستانی قالینوں کی عالمی منڈیوں میں رسائی اور برآمدی مسابقت بڑھانے کے لیے پالیسی اقدامات کا جائزہ بھی لیا۔

وفد نے علاقائی تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے قالینوں کی صنعت کو درپیش مشکلات سے وزیر تجارت کو آگاہ کیا۔

(جاری ہے)

وفد نے کہا کہ کاروبار دوست اور قابلِ پیش گوئی پالیسی فریم ورک برآمدات کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔ جام کمال نے کہا کہ حکومت شفاف، قواعد پر مبنی اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کے ذریعے برآمدات کے فروغ کے لیے پرعزم ہے،وزارتِ تجارت صنعت کی تجاویز پر متعلقہ اداروں سے مشاورت کے بعد قابلِ عمل حل تیار کرے گی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی برآمدی حکمتِ عملی ویلیو ایڈیشن، برآمدی صنعت، برانڈنگ اور عالمی ویلیو چینز میں شمولیت پر مرکوز ہے، حکومت نجی شعبے کے تعاون سے تجارت میں حائل حقیقی رکاوٹیں دور کر کے برآمدات پر مبنی پائیدار ترقی کو فروغ دے گی۔\932

متعلقہ مضامین

  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • وزیر تجارت سے کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال