اسرائیل نے جنگ بندی کو حماس کی شرائط سے مشروط کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
مقبوضہ بیت المقدس(انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ جنگ بندی اسی وقت ممکن ہے جب حماس تمام یرغمالیوں کو رہا کرے اور ہتھیار ڈال دے۔
اسرائیلی وزیر خارجہ کے مطابق اگر حماس یہ شرائط مان لے تو جنگ فوری طور پر ختم ہو سکتی ہے۔ تاہم حماس نے اسرائیل کی شرط کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہتھیار نہیں ڈالے گی اور یرغمالیوں کی رہائی صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب اسرائیلی فوج غزہ سے واپس جائے اور حملے بند کرے۔
ادھر غزہ پر اسرائیلی بمباری جاری ہے۔ قابض فوج نے ایک اور بلند عمارت کو نشانہ بنایا جس کے بعد تین دن میں تباہ ہونے والی عمارتوں کی تعداد تین ہو گئی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق تازہ فضائی حملوں میں مزید 65 فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔ یوں مجموعی ہلاکتیں 64 ہزار 368 تک پہنچ گئی ہیں، جبکہ زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ 62 ہزار 776 بتائی جا رہی ہے۔
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔