بھارت میں ہندوتوا نظریے پر کاربند مودی سرکار نے ایک بار پھر خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق انڈین آرمی نے 212 عدد 50 ٹن وزنی ٹینک ٹرانسپورٹر ٹریلرز کی خریداری کے لیے 224 کروڑ روپے کے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جو جنگی گاڑیوں اور بھاری ہتھیاروں کی نقل و حمل کے لیے استعمال ہوں گے۔

یہ ٹریلرز جدید ہائیڈرولک اور پنیومیٹک لوڈنگ ریمپس سے لیس ہیں اور بھارتی کمپنی اینجسکیڈس ایروسپیس نے ان کی فراہمی کا معاہدہ حاصل کیا ہے۔ اس خریداری کو مودی سرکار کی “آتم نربھر بھارت” مہم کے تحت ایک اہم عسکری قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کروڑوں روپے کے ہتھیار خریدنے کے معاہدے بھارت کی پاکستان مخالف جارحیت کا واضح اشارہ ہیں اور خطے میں امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن گئے ہیں۔

مزید پڑھیں: مودی سرکار کا جنگی جنون بے قابو، خطے کا امن خطرے میں ڈالنے کی نئی کوششیں بے نقاب

مودی حکومت کی بی جے پی اور آر ایس ایس کی انتہا پسند ہندوتوا پالیسیوں کے تحت نوجوانوں میں عسکری ذہن سازی کی مہم بھی زوروں پر ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق انڈین آرمی نے لداخ میں این سی سی کیڈٹس کے لیے خصوصی آرمی اٹیچمنٹ اور تربیتی کیمپ کا انعقاد کیا ہے جہاں ہتھیاروں کی تربیت، نقشہ پڑھنے اور جسمانی فٹنس پر توجہ دی جا رہی ہے۔

یہ اقدامات مودی حکومت کی جنگی اور انتہا پسند سوچ کی عکاسی کرتے ہیں، جس کا مقصد نوجوانوں میں عسکریت پسندی کو فروغ دینا اور سیاسی مقاصد حاصل کرنا ہے۔

ماہرین کے مطابق مودی سرکار جنگی صلاحیتوں میں اضافہ کر کے “آپریشن سندور” کی بدترین شکست کے داغ کو مٹانے کی کوشش کر رہی ہے، مگر یہ بھارت کی جارحانہ پالیسیوں کو چھپانے میں ناکام رہے گی۔

پاکستان نے پہلے ہی واضح کیا ہے کہ وہ بھارت کی کسی بھی مہم جوئی کا بھرپور اور مؤثر جواب دینے کے لیے تیار ہے اور خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

"آتم نربھر بھارت" آپریشن سندور انڈین آرمی جنگی جنون مودی سرکار.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: آتم نربھر بھارت انڈین آرمی جنگی جنون مودی سرکار مودی سرکار کے لیے

پڑھیں:

200 سال قدیم "از غیب شہید مسجد" کو مودی حکومت نے رات کی تاریکی میں مسمار کردیا

انہدامی کارروائی محض 22 منٹ میں 5 بلڈوزرز کے ذریعہ انجام دی گئی، یہ مسجد تقریباً 42 فیٹ اونچی تھی، جسکو مسمار کئے جانے کے بعد ملبہ راتوں رات ٹرکوں میں بھر کر وہاں سے ہٹادیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر وارانسی میں گزشتہ شب مودی حکومت نے 200 سال قدیم "از غیب شہید مسجد" کو مسمار کر دیا اور ساتھ ہی وہاں موجود مزار اور قبرستان کے کچھ حصہ کو بھی منہدم کر دیا گیا۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ مسجد کو منہدم کرنے کی کارروائی محض 22 منٹ میں 5 بلڈوزرز کے ذریعہ انجام دی گئی۔ یہ مسجد تقریباً 42 فیٹ اونچی تھی، جس کو مسمار کئے جانے کے بعد ملبہ راتوں رات ٹرکوں میں بھر کر وہاں سے ہٹا دیا گیا۔ یعنی بدھ کی صبح جب لوگ اس جگہ سے گزرے تو مسجد اور مزار کا نام و نشان مٹ چکا تھا۔

ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ کل دیر شب تقریباً 12 بجے انتظامیہ کے اعلیٰ افسران 1000 سے زائد جوانوں کے ساتھ "از غیب شہید مسجد" کے پاس پہنچے اور علاقہ کا معائنہ کیا۔ ڈی سی پی کاشی گورو بنسوال اور اے ڈی سی پی ویبھو بانگر نے مسجد کے چاروں طرف بیریکیڈنگ کروائی اور لوگوں کی آمد و رفت پر روک لگا دی گئی۔ حتیٰ کہ میڈیا اہلکاروں کو بھی اس جگہ پر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ رات کی تاریکی میں خاموشی کے ساتھ یہ کام ہوا اور جب تک مسجد منہدم ہونے کی خبر لوگوں تک پہنچی، ملبہ بھی وہاں سے ہٹایا جا چکا تھا۔

انتظامیہ نے مسجد منہدم کرنے کے لئے رات کی تاریکی کا انتخاب کرنے کی کوئی آفیشیل وجہ نہیں بتائی۔ پولیس اہلکاروں نے یہ ضرور کہا کہ ٹریفک سے بچنے کے لئے رات میں کارروائی کی گئی۔ راج گھاٹ واقع کاشی ریلوے اسٹیشن کے احاطہ میں موجود اس مسجد کو منہدم کرنے سے پہلے اے سی پی شیوہری مینا نے افسروں کے ساتھ پہنچ کر جائزہ لیا تھا۔ بعد ازاں سخت سیکورٹی میں مزار اور اس کے قریب بنی مسجد کو مسمار کر دیا گیا۔ موصولہ اطلاع کے مطابق بھدؤ چنگی واقع قلعہ کوہنا علاقہ میں "از غیب شہید کی مسجد اور قبرستان کئی سالوں سے تنازعہ کا شکار رہا۔

مسلمانوں کا دعویٰ ہے کہ مسجد 200 سال قدیم تھی۔ مسجد کے متولی شمیم استاد تھے، جن کا 2 ماہ قبل انتقال ہو چکا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ ریلوے کی پرانی زمین ہے، جس پر کچھ لوگوں نے ناجائز قبضہ کر پہلے مزار بنائی، اور بعد میں مسجد و قبرستان کی تعمیر کی گئی۔ 2024ء میں کاشی ماڈل ریلوے اسٹیشن کا منصوبہ سامنے آیا، جس کے بعد زمین کی پیمائش کرائی گئی اور مسجد کی تعمیر ناجائز قبضہ والی زمین پر ہونے کا پتہ چلا۔ از غیب شہید مسجد کی انہدامی کارروائی سے متعلق رپورٹ "این ڈی ٹی وی" پر بھی شائع ہوئی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ اس جگہ ایک ہنومان مندر بھی تھا، اسے بھی ہٹا دیا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مودی کی شبیہ کو بچانے کیلئے سونے کے ذخائر فروخت کئے جارہے ہیں، ملکارجن کھڑگے
  • 200 سال قدیم "از غیب شہید مسجد" کو مودی حکومت نے رات کی تاریکی میں مسمار کردیا
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز