مودی سرکار کا جنگی جنون: 224 کروڑ روپے کے ہتھیار خریداری معاہدے سے خطے میں کشیدگی کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, August 2025 GMT
بھارت میں ہندوتوا نظریے پر کاربند مودی سرکار نے ایک بار پھر خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق انڈین آرمی نے 212 عدد 50 ٹن وزنی ٹینک ٹرانسپورٹر ٹریلرز کی خریداری کے لیے 224 کروڑ روپے کے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جو جنگی گاڑیوں اور بھاری ہتھیاروں کی نقل و حمل کے لیے استعمال ہوں گے۔
یہ ٹریلرز جدید ہائیڈرولک اور پنیومیٹک لوڈنگ ریمپس سے لیس ہیں اور بھارتی کمپنی اینجسکیڈس ایروسپیس نے ان کی فراہمی کا معاہدہ حاصل کیا ہے۔ اس خریداری کو مودی سرکار کی “آتم نربھر بھارت” مہم کے تحت ایک اہم عسکری قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کروڑوں روپے کے ہتھیار خریدنے کے معاہدے بھارت کی پاکستان مخالف جارحیت کا واضح اشارہ ہیں اور خطے میں امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن گئے ہیں۔
مزید پڑھیں: مودی سرکار کا جنگی جنون بے قابو، خطے کا امن خطرے میں ڈالنے کی نئی کوششیں بے نقاب
مودی حکومت کی بی جے پی اور آر ایس ایس کی انتہا پسند ہندوتوا پالیسیوں کے تحت نوجوانوں میں عسکری ذہن سازی کی مہم بھی زوروں پر ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق انڈین آرمی نے لداخ میں این سی سی کیڈٹس کے لیے خصوصی آرمی اٹیچمنٹ اور تربیتی کیمپ کا انعقاد کیا ہے جہاں ہتھیاروں کی تربیت، نقشہ پڑھنے اور جسمانی فٹنس پر توجہ دی جا رہی ہے۔
یہ اقدامات مودی حکومت کی جنگی اور انتہا پسند سوچ کی عکاسی کرتے ہیں، جس کا مقصد نوجوانوں میں عسکریت پسندی کو فروغ دینا اور سیاسی مقاصد حاصل کرنا ہے۔
ماہرین کے مطابق مودی سرکار جنگی صلاحیتوں میں اضافہ کر کے “آپریشن سندور” کی بدترین شکست کے داغ کو مٹانے کی کوشش کر رہی ہے، مگر یہ بھارت کی جارحانہ پالیسیوں کو چھپانے میں ناکام رہے گی۔
پاکستان نے پہلے ہی واضح کیا ہے کہ وہ بھارت کی کسی بھی مہم جوئی کا بھرپور اور مؤثر جواب دینے کے لیے تیار ہے اور خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
"آتم نربھر بھارت" آپریشن سندور انڈین آرمی جنگی جنون مودی سرکار.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آتم نربھر بھارت انڈین آرمی جنگی جنون مودی سرکار مودی سرکار کے لیے
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔