پاکستان نے بدلتی ہوئی عالمی سیاسی تبدیلیوں میں اپنی سفارتکاری سے خود کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا ہے۔ عسکری، اقتصادی اور پبلک ڈپلومیسی کے ذریعے پاکستان نہ صرف اپنے قومی مفادات کا تحفظ بلکہ عالمی سطح پر اپنی ساکھ کو مزید بہتر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

’’ بدلتی دنیا میں پاکستان کی سفارتکاری اور اس کے اثرات‘‘ کے موضوع ’’ایکسپریس فورم اسلام آباد‘‘ میں ایک مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں ماہرین امور کارجہ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ فورم میں ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔

ریئر ایڈمرل (ر)سید فیصل علی شاہ

( دفاعی تجزیہ نگار)

پاکستان کہ لیے یہ اہم اور موزوں وقت ہے کہ دیگر ممالک کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات کو فروغ دیا جائے اور ملکی کی عالمی ساکھ کو مزید بہتر کیا جائے۔ روس، یوکرین جنگ ، غزہ تنازعہ، ایران، اسرائیل جنگ اور اب پاک بھارت جنگ، ان سب میں ایک چیز واضح طور پر سامنے آئی ہے کہ طاقت کے بلبوتے پر من مانی کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے اور بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کو پس پشت ڈالا جا رہا ہے۔

اسی سوچ کے ساتھ جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو اسے منہ توڑ جواب ملا جس سے اس کا طاقت کا نشہ ہرن ہوگیا اور پاکستان عالمی افق پر ایک بار بھر طاقتور ملک کے طور پر سامنے آیا۔ اس کامیابی کے بعد اب دنیا نہ صرف ہمارے ساتھ سفارتی تعلقات کو فروغ دینا چاہتی ہے بلکہ تجارت بھی چاہتی ہے۔ مختلف ممالک اب ملٹری ڈپلومیسی میں بھی ہاتھ آگے بڑھا رہے ہیں اور ہماری اہم شخصیات سے مل رہے ہیں۔ بدلتی دنیا میں مجموعی طور پاکستان کی عالمی ساکھ بہتر ہوئی ہے اور یہ سفارتکاری اور سفارتکاروں کیلئے نادر موقع ہے، اس سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ ہمیں دنیا سے وہ سب حاصل کرنا چاہیے جس سے پاکستان اور پاکستانی عوام، دونوں کو فائدہ پہنچے۔

جمیل احمد خان

(سینئر سفارتکار)

دور حاضر کے سیاسی منظر نامے ہر روز نئے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور اسی کی بنیاد پر ہی خارجہ پالیسی کو استوار کیا جاتا ہے، اس میں تبدیلی لائی جاتی ہے یا نئے طریقے اپنائے جاتے ہیں۔ پاکستان ن ے گزشتہ دنوں انتہائی موثر، کامیاب اور متحرک سفارتکاری کی ہے جس میں سول ملٹری قیادت کی سفارتکاری کا کردار قابل تعریف ہے۔ یہ اسی سفارتکاری کا ثمر ہے کہ ہمارے امریکا کے ساتھ دوبارہ سے تعلقات استوار ہونا شروع ہوگئے ہیں اور ساتھ ہی چین بھی ہماری سفارتی کاوشوں سے مطمئن نظر آتا ہے ۔

اس وقت ہماری عالمی ساکھ کی وجہ سے سفارتکاری کے لیے سازگار ماحول ہے لہٰذا اس سے دیرپا کامیابی حاصل کرنے کیلئے ضروری ہے کہ سول ملٹری سفارتکاری اور رابطوں میں ٹریڈ ڈپلومیسی کو بھی شامل کیا جائے۔ ہر سفارتخانے اور سفیر کو یہ ذمہ داری دی جائے کہ وہ اپنے میزبان ممالک میں ارباب اختیار، بزنس کمیونٹی و دیگر اہم حلقوں اور عوام کو انگیج کریں۔ وہاں خصوصی سمینارز اور سمپوزیمز کا انعقاد کیا جائے جن میں پاکستان کا موقف ان تک پہنچایا جائے، اس سے پاکستان کی ساکھ مزید بہتر ہوگی اور اگر آنے والے دنوں میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی یا کسی بھی کونسل میں پاکستان متعلق کوئی قرار دادآتی ہے تو اس میں زیادہ حمایت مل سکے گی۔

 ڈاکٹر سلمی ملک

(ایسوسی ایٹ پروفیسر،ڈیفنس اینڈ سٹرٹیجک سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ، قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد)

بدلتی دنیا میں جب ہم پاکستان کی سفارتکاری کا جائزہ لیتے ہیں تو اس کی مختلف جہتیں ہیں۔ ایک پہلے سے باضابطہ ٹریک ون ڈپلومیسی ہے جو ابھی تک موثر ہے اور اس کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ پھر پبلک ڈپلومیسی سمیت مختلف ٹریکس ہیں،فوڈ سکیورٹی و دیگر چیزیں اس کا حصہ بنتی ہیں اور کسی بھی ملک کی سافٹ پاور کو پروجیکٹ کرتی ہیں۔ ہم نے دیکھاکہ چین نے دنیا میں اپنا سافٹ امیج بنایا اور ایک طاقت کے طور پر ابھرا لیکن اب چین ایک فوجی طاقت کے طور پر بھی سامنے آیا ہے حالانکہ یہ طاقت اس کے پاس پہلے سے موجود ہے۔

پاک بھارت جنگ 2025ء کے بعد چین کا ملٹری امیج کھل کر سامنے آیا ہے کہ اس کے پاس جدید انفراسٹرکچر موجود ہے۔ پاکستان نے اس جنگ میں جو کمال مہارت دکھائی اور چینی ٹیکنالوجی کا جو بہترین استعمال کیا ہے، اس سے دنیا میں چین کی دھوم مچ گئی ہے۔ میرے نزدیک سافٹ پاور پروجیکشن، سفارتکاری کی ایک مضبوط جہت ہے، اس کے بغیر دنیا میں لوہا نہیں منوایا جاسکتا لہٰذا بدلتی دنیا میں پاکستان کو ہارڈ اینڈ سافٹ پاور پر مبنی ایک بہترین امتزاج کی ضرورت ہے جو سٹیٹک نہیں بلکہ ڈائنامک ہو۔ موقع کی مناسبت سے سفارتکاری میں اتاڑ چڑھاؤ آتے رہیں گے لیکن اہم یہ ہے کہ دور سمارٹ پاور کا ہے کہ ہم اسے کس طرح استعمال کرتے ہیں۔

 اس کے لیے ملک کے اندرونی حالات اور بہترین معاشی پروفائل ناگزیر ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ قومی یکجہتی کے اداروں کی مضبوطی بھی انتہائی اہم ہے۔ عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق پاکستان نے یہ سیکھا ہے کہ کس طرح ڈیجیٹل ورلڈ مین ڈیجیٹل ڈپلومیسی کو استعمال کرنا ہے اور اپنا موقف دنیا تک پہنچانا ہے۔ یہ سبق ہم نے اپنے مخالف ملک سے سیکھا ہے جس نے ہمیشہ مس انفارمیشن اور ڈس انفارمیشن کے ذریعے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔

ہم درست انفارمیشن کے ذریعے اپنا اور کشمیریوں کا موقف دنیا تک پہنچاتے ہیں۔ میرے نزدیک ہمیں اس وقت ایک جارحانہ پالیسی کی ضرورت ہے لہٰذااس پر کام کرنا ہوگا۔ ہمیں مستقبل کے حالات کو دیکھتے ہوئے اپنی خارجہ پالیسی کے رہنما اصول تیار کرنا ہوں گے۔ ہمیں اس وقت ڈپلومیٹک فرنٹ پر جہاں فوجی برتری حاصل ہوئی ہے ہواں ہمیں اپنی معاشی، معاشرتی، ثقافتی، داخلی معاملات اور اندرونی اتحاد سمیت میڈیا کی طاقت کو مزید بہتر بنانا ہوگا۔ یہ سب اسی وقت ہوسکتا ہے جب یہ تمام چیزیں ایک دوسرے کو سپورٹ کریں لہٰذا ہمیں ایک بہترین امتزاج بنانا ہے اور سمارٹ ڈپلومیسی کے ذریعے سمارٹ پاور کے طور پر آگے بڑھنا ہے۔

 ڈاکٹر خرم عباس

(ڈائریکٹر انڈیا سٹڈی سینٹر، انسٹی ٹیوٹ آف سٹرٹیجک سٹڈیز اسلام آباد)

 بدلتی دنیا میں پاکستان کی سفارت کاری اور اس کے اثرات کا جائزہ لینے کیلئے یہ سمجھنا ہوگا کہ دنیا بدل کیسے رہی ہے۔ دنیا میں اس وقت ٹرینڈز تبدیل ہورہے ہیں جن میں سب سے بڑا ٹرینڈ سپر پاور کا نظریہ اور unipolartity ہے۔ امریکا کی طاقت آہستہ آہستہ کم ہو رہی ہے اور نئے پاور ہاؤسز ابھر رہے ہیں جن میں روس اہم ہے۔ چین نے بھی خود کو دنیا کی ایک بڑی معاشی طاقت کے طور پر منوایا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ کچھ مزید طاقتیں ہیں جو علاقائی سطح پر ہیں، ان کی معاشی حالت بھی بہتر ہوئی ہے۔ اس سب کی وجہ سے اب گلوبل آرڈر تبدیل ہو رہا ہے جس میں یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس کا چیمپئن کون ہے تاہم نئے گلوبل آرڈر کے تناظر میں عالمی سطح پر امریکا اور چین کا شدید مقابلہ ہوگا۔ گلوبل آرڈر کی تبدیلی میں بڑے چیلنجز بھی سامنے آتے ہیں۔ جب کسی طاقت کی رٹ کم ہوتی ہے، نئی طاقتیں ابھر رہی ہوتی ہیں تو پھر دنیا میں تنازعات جنم لیتے ہیں۔

اس وقت بھی ایسی ہی صورتحال ہے، ممالک کی پالیسی جارحانہ ہو گئی ہے اور ہر طرف تنازعات نظر آ رہے ہیں۔ مثال کے طور پر اسرائیل نے غزہ، فلسطین، شام، لبنان اور ایران پر حملے کیے۔ اسی طرح بھارت نے میانمار میں ڈرون سٹرائک کی اور پھر پاکستان کے ساتھ جنگ چھیڑ دی۔ روس اور یوکرین کی صورتحال بھی سب کے سامنے ہے۔ ایسی صورتحال میں ممالک کیلئے سفارتکاری بڑا چیلنج ہے۔ اس کے علاوہ معیشت بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کا معاشی ماحول بھی بدل گیا ہے، اب عالمی اداروں کے قوانین اور ضوابط بھی چیلنج کیے جا رہے ہیں، اب ممالک اپنے قوانین دنیا پر عائد کرنے کی کوشش کر ر ہے ہیں جس کی واضح مثال امریکا ہے۔ ان چیلنجز میں سب سے ضروری اپنے ملکی مفادات کا تحفظ ہے۔ ہمیں عالمی سطح پر سیاسی، سفارتی، معاشی، سکیورٹی اور سٹرٹیجک معاملات کو بائی لیٹریل اور ملٹی لیٹرل فورمز، سب پر لے کر چلنا ہے۔

میرے نزدیک پاکستان کیلئے امریکا اور چین کا ٹکراؤ بڑا چیلنج ہوگا جس کے براہ راست اثرات ہم پر پڑیں گے۔ تاریخی اعتبار سے سکیورٹی اور معاشی حوالے سے پاکستان کا انحصار امریکہ پر رہا ہے لیکن گزشتہ تین، چار دہائیوں میں اس میںشفٹ آیا ہے جس کے بعد ہمارا انحصار اب چین پر بھی ہے۔ پاک چین تعلقات معاشی بھی ہیں اور سکیورٹی کے حوالے سے بھی۔ پاکستان کیلئے امریکا اور چین دونوں ممالک اہم ہیں لہٰذا پاکستان یہ کوشش کر رہا ہے کہ دونوں کے ساتھ تعلقات میں توازن قائم کرے۔ پاکستان کو سفارتی حوالے سے ایک اور بڑے چیلنج کا بھی سامنا ہے۔ پاکستان کے امریکا، چین، روس، عرب و دیگر ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، اس کے باوجود پاکستان کیلئے ان ممالک کے ساتھ اسرائیل اور بھارت کے تناظر میں سفارتی تعلقات ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اسرائیل اور فلسطین کے حوالے سے پاکستان کا دوٹوک اور واضح موقف ہے۔

پاکستان فلسطین کا حمایتی ہے لہٰذا جب مشرق وسطیٰ میں جب کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کا نہ صرف معاشی بوجھ پڑتا ہے بلکہ ہمیں سفارتی محاذ پر بھی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور عالمی سطح سے بھی پریشر آتا ہے۔ ان تمام چیلنجز میں ہمیں پاکستان کی سفارتکاری کو بہترین آنداز میں آگے لے کر جانا ہے۔ بدلتی دنیا میں پاکستان کی سفارتکاری اور اس کے اثرات کا موضوع عالمی سیاست میں تیزی سے بدلتے ہوئے رجحانات، طاقت کے مراکز کی ازسرنو ترتیب اور ابھرتے ہوئے جغرافیائی و اقتصادی چیلنجز کے تناظر میں پاکستان کی سفارتکاری کو نئی حکمت عملی، وژن اور فعالیت کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنا پڑا ہے۔ جہاں سرد جنگ کے بعد یک قطبی دنیا کا تصور غالب رہا، وہیں آج دنیا ایک بار پھر کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے جس میں چین، روس، یورپی یونین اور ابھرتی ہوئی معیشتیں اپنا کردار بڑھا رہی ہیں۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک بڑا ستون علاقائی و عالمی طاقتوں کے ساتھ توازن قائم رکھنا رہا ہے۔ امریکا کے ساتھ تعلقات، جو کبھی اسٹرٹیجک الائنس کی سطح پر تھے، اب ایک زیادہ پریگمیٹک اور محدود تعاون کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ اس کے برعکس چین کے ساتھ تعلقات ’’آل ویدر فرینڈ شپ‘‘ سے بڑھ کر اکنامک، ٹیکنالوجیکل، اور اسٹرٹیجک تعاون میں گہرائی اختیار کر چکے ہیں، جس کی بڑی مثال چین،پاکستان اقتصادی راہداری ہے۔

پاکستان نے مسلم دنیا میں اتحاد و ہم آہنگی کے لیے بھی کوششیں کیں، چاہے وہ اسلامی تعاون تنظیم (OIC) میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنا ہو یا افغانستان کے استحکام کے لیے سفارتی کوششیں ۔ سعودی عرب، ترکی، ایران اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات میں توازن پیدا کرنے کی کوششیں پاکستان کی سفارتکاری کی کامیابیوں میں شامل ہیں۔ کشمیر پاکستان کی خارجہ پالیسی کا مرکزی نکتہ ہے۔ بھارت کے 5 اگست 2019ء کے اقدام کے بعد پاکستان نے عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کو جارحانہ انداز میں اٹھایا جس سے اقوام متحدہ، یورپی پارلیمنٹ، او آئی سی اور انسانی حقوق کی تنظیموں میں اس معاملے پر بحث ہوئی تاہم، بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات میں کشیدگی بدستور قائم ہے، جس سے علاقائی استحکام کو خطرہ لاحق ہے۔

سلمان جاوید

(ڈائریکٹر، ساؤتھ ایشاء ٹائمز)

 بھارت نے گزشتہ 25 برسوں میں یہ کوشش کی کہ بھارت کو ایک الگ حیثیت میں بڑی طاقت کے طور پر دیکھا جائے، پاک بھارت تناظر میں نہیں لیکن حالیہ جنگ کے بعد اس کی تمام کوششیں بیکار گئی ہیں اورآپریشن معرکہ حق کے بعد پاکستان کی عالمی ساکھ سب کے سامنے ہے۔ چین اور امریکا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات زیادہ بہتر ہوگئے ہیں۔ پاکستان بھارت کے ایک بڑے مدمقابل کے طور پر سامنے آیا ہے خاص طور پر دفاعی لحاظ سے ہم نے بھارت کو شکست دی ہے جو ایک بڑی فوجی طاقت ہے۔ یہ صرف ہم نہیں کہہ رہے بلکہ خود بھارت کے اپنے لوگ، چینی، روسی اور یورپی مبصرین بھی یہی بات کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان عالم اسلام میں ایک مرتبہ پھر طاقتور مسلم ملک کے طور پر ابھرا ہے۔

اس کے بعد سے غزہ کے مسلمانوں جو بدترین مظالم کا شکار ہیں اور مایوس ہوچکے تھے، ان میں امید پیدا ہوئی ہے کہ پاکستان کی صورت میں ایک ایسا ملک موجود ہے جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بھارت کو زبردست جواب دینے اور اس کے مزموم عزائم خاک میں ملانے کے بعد ہمارے معاشی حالات بہتر ہوئے اوریہاں سرمایہ کاری بھی آنا شروع ہوگئی ہے۔دنیا میں ہمارا سفارتی امیج بہتر ہوا ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف ، وزراء اور دیگر اہم شخصیات بیرون ممالک کے دورے کر رہی ہیں۔

یہ ایک سرپرائزنگ فیکٹر ہے کہ اہم شخصیات اور سربراہان مملکت سے ملاقاتیں کی جا رہی ہیں جس کا بہت فائدہ ہوا ہے، سابق ادوار میں اس طرح کی سفارتکاتی نہیں ہوسکی، اب اسے مزید فروغ دینا چاہیے۔ ہمارا پبلک ڈپلومیسی کا شعبہ ابھی کمزور ہے۔ پاکستان کو ٹریک ٹو اور تھری کے معاملات کو سامنے رکھتے ہوئے اس پر کام کرنے کی ضرورت ہے، اس سے بہت فائدہ ہوگا۔ ہمیں عالمی سطح پر عوامی رائے سازی پر کام کرنا ہے اور جو پاکستانی دنیا میں رہتے ہیں، ان کے ذریعے سفارتکاری کرنا ہوگی۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ، ہمسایہ ملک وسائل فراہم کر رہا ہے: وزیراعظم
  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا