پاکستان نے بدلتی ہوئی عالمی سیاسی تبدیلیوں میں اپنی سفارتکاری سے خود کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا ہے۔ عسکری، اقتصادی اور پبلک ڈپلومیسی کے ذریعے پاکستان نہ صرف اپنے قومی مفادات کا تحفظ بلکہ عالمی سطح پر اپنی ساکھ کو مزید بہتر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

’’ بدلتی دنیا میں پاکستان کی سفارتکاری اور اس کے اثرات‘‘ کے موضوع ’’ایکسپریس فورم اسلام آباد‘‘ میں ایک مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں ماہرین امور کارجہ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ فورم میں ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔

ریئر ایڈمرل (ر)سید فیصل علی شاہ

( دفاعی تجزیہ نگار)

پاکستان کہ لیے یہ اہم اور موزوں وقت ہے کہ دیگر ممالک کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات کو فروغ دیا جائے اور ملکی کی عالمی ساکھ کو مزید بہتر کیا جائے۔ روس، یوکرین جنگ ، غزہ تنازعہ، ایران، اسرائیل جنگ اور اب پاک بھارت جنگ، ان سب میں ایک چیز واضح طور پر سامنے آئی ہے کہ طاقت کے بلبوتے پر من مانی کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے اور بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کو پس پشت ڈالا جا رہا ہے۔

اسی سوچ کے ساتھ جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو اسے منہ توڑ جواب ملا جس سے اس کا طاقت کا نشہ ہرن ہوگیا اور پاکستان عالمی افق پر ایک بار بھر طاقتور ملک کے طور پر سامنے آیا۔ اس کامیابی کے بعد اب دنیا نہ صرف ہمارے ساتھ سفارتی تعلقات کو فروغ دینا چاہتی ہے بلکہ تجارت بھی چاہتی ہے۔ مختلف ممالک اب ملٹری ڈپلومیسی میں بھی ہاتھ آگے بڑھا رہے ہیں اور ہماری اہم شخصیات سے مل رہے ہیں۔ بدلتی دنیا میں مجموعی طور پاکستان کی عالمی ساکھ بہتر ہوئی ہے اور یہ سفارتکاری اور سفارتکاروں کیلئے نادر موقع ہے، اس سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ ہمیں دنیا سے وہ سب حاصل کرنا چاہیے جس سے پاکستان اور پاکستانی عوام، دونوں کو فائدہ پہنچے۔

جمیل احمد خان

(سینئر سفارتکار)

دور حاضر کے سیاسی منظر نامے ہر روز نئے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور اسی کی بنیاد پر ہی خارجہ پالیسی کو استوار کیا جاتا ہے، اس میں تبدیلی لائی جاتی ہے یا نئے طریقے اپنائے جاتے ہیں۔ پاکستان ن ے گزشتہ دنوں انتہائی موثر، کامیاب اور متحرک سفارتکاری کی ہے جس میں سول ملٹری قیادت کی سفارتکاری کا کردار قابل تعریف ہے۔ یہ اسی سفارتکاری کا ثمر ہے کہ ہمارے امریکا کے ساتھ دوبارہ سے تعلقات استوار ہونا شروع ہوگئے ہیں اور ساتھ ہی چین بھی ہماری سفارتی کاوشوں سے مطمئن نظر آتا ہے ۔

اس وقت ہماری عالمی ساکھ کی وجہ سے سفارتکاری کے لیے سازگار ماحول ہے لہٰذا اس سے دیرپا کامیابی حاصل کرنے کیلئے ضروری ہے کہ سول ملٹری سفارتکاری اور رابطوں میں ٹریڈ ڈپلومیسی کو بھی شامل کیا جائے۔ ہر سفارتخانے اور سفیر کو یہ ذمہ داری دی جائے کہ وہ اپنے میزبان ممالک میں ارباب اختیار، بزنس کمیونٹی و دیگر اہم حلقوں اور عوام کو انگیج کریں۔ وہاں خصوصی سمینارز اور سمپوزیمز کا انعقاد کیا جائے جن میں پاکستان کا موقف ان تک پہنچایا جائے، اس سے پاکستان کی ساکھ مزید بہتر ہوگی اور اگر آنے والے دنوں میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی یا کسی بھی کونسل میں پاکستان متعلق کوئی قرار دادآتی ہے تو اس میں زیادہ حمایت مل سکے گی۔

 ڈاکٹر سلمی ملک

(ایسوسی ایٹ پروفیسر،ڈیفنس اینڈ سٹرٹیجک سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ، قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد)

بدلتی دنیا میں جب ہم پاکستان کی سفارتکاری کا جائزہ لیتے ہیں تو اس کی مختلف جہتیں ہیں۔ ایک پہلے سے باضابطہ ٹریک ون ڈپلومیسی ہے جو ابھی تک موثر ہے اور اس کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ پھر پبلک ڈپلومیسی سمیت مختلف ٹریکس ہیں،فوڈ سکیورٹی و دیگر چیزیں اس کا حصہ بنتی ہیں اور کسی بھی ملک کی سافٹ پاور کو پروجیکٹ کرتی ہیں۔ ہم نے دیکھاکہ چین نے دنیا میں اپنا سافٹ امیج بنایا اور ایک طاقت کے طور پر ابھرا لیکن اب چین ایک فوجی طاقت کے طور پر بھی سامنے آیا ہے حالانکہ یہ طاقت اس کے پاس پہلے سے موجود ہے۔

پاک بھارت جنگ 2025ء کے بعد چین کا ملٹری امیج کھل کر سامنے آیا ہے کہ اس کے پاس جدید انفراسٹرکچر موجود ہے۔ پاکستان نے اس جنگ میں جو کمال مہارت دکھائی اور چینی ٹیکنالوجی کا جو بہترین استعمال کیا ہے، اس سے دنیا میں چین کی دھوم مچ گئی ہے۔ میرے نزدیک سافٹ پاور پروجیکشن، سفارتکاری کی ایک مضبوط جہت ہے، اس کے بغیر دنیا میں لوہا نہیں منوایا جاسکتا لہٰذا بدلتی دنیا میں پاکستان کو ہارڈ اینڈ سافٹ پاور پر مبنی ایک بہترین امتزاج کی ضرورت ہے جو سٹیٹک نہیں بلکہ ڈائنامک ہو۔ موقع کی مناسبت سے سفارتکاری میں اتاڑ چڑھاؤ آتے رہیں گے لیکن اہم یہ ہے کہ دور سمارٹ پاور کا ہے کہ ہم اسے کس طرح استعمال کرتے ہیں۔

 اس کے لیے ملک کے اندرونی حالات اور بہترین معاشی پروفائل ناگزیر ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ قومی یکجہتی کے اداروں کی مضبوطی بھی انتہائی اہم ہے۔ عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق پاکستان نے یہ سیکھا ہے کہ کس طرح ڈیجیٹل ورلڈ مین ڈیجیٹل ڈپلومیسی کو استعمال کرنا ہے اور اپنا موقف دنیا تک پہنچانا ہے۔ یہ سبق ہم نے اپنے مخالف ملک سے سیکھا ہے جس نے ہمیشہ مس انفارمیشن اور ڈس انفارمیشن کے ذریعے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔

ہم درست انفارمیشن کے ذریعے اپنا اور کشمیریوں کا موقف دنیا تک پہنچاتے ہیں۔ میرے نزدیک ہمیں اس وقت ایک جارحانہ پالیسی کی ضرورت ہے لہٰذااس پر کام کرنا ہوگا۔ ہمیں مستقبل کے حالات کو دیکھتے ہوئے اپنی خارجہ پالیسی کے رہنما اصول تیار کرنا ہوں گے۔ ہمیں اس وقت ڈپلومیٹک فرنٹ پر جہاں فوجی برتری حاصل ہوئی ہے ہواں ہمیں اپنی معاشی، معاشرتی، ثقافتی، داخلی معاملات اور اندرونی اتحاد سمیت میڈیا کی طاقت کو مزید بہتر بنانا ہوگا۔ یہ سب اسی وقت ہوسکتا ہے جب یہ تمام چیزیں ایک دوسرے کو سپورٹ کریں لہٰذا ہمیں ایک بہترین امتزاج بنانا ہے اور سمارٹ ڈپلومیسی کے ذریعے سمارٹ پاور کے طور پر آگے بڑھنا ہے۔

 ڈاکٹر خرم عباس

(ڈائریکٹر انڈیا سٹڈی سینٹر، انسٹی ٹیوٹ آف سٹرٹیجک سٹڈیز اسلام آباد)

 بدلتی دنیا میں پاکستان کی سفارت کاری اور اس کے اثرات کا جائزہ لینے کیلئے یہ سمجھنا ہوگا کہ دنیا بدل کیسے رہی ہے۔ دنیا میں اس وقت ٹرینڈز تبدیل ہورہے ہیں جن میں سب سے بڑا ٹرینڈ سپر پاور کا نظریہ اور unipolartity ہے۔ امریکا کی طاقت آہستہ آہستہ کم ہو رہی ہے اور نئے پاور ہاؤسز ابھر رہے ہیں جن میں روس اہم ہے۔ چین نے بھی خود کو دنیا کی ایک بڑی معاشی طاقت کے طور پر منوایا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ کچھ مزید طاقتیں ہیں جو علاقائی سطح پر ہیں، ان کی معاشی حالت بھی بہتر ہوئی ہے۔ اس سب کی وجہ سے اب گلوبل آرڈر تبدیل ہو رہا ہے جس میں یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس کا چیمپئن کون ہے تاہم نئے گلوبل آرڈر کے تناظر میں عالمی سطح پر امریکا اور چین کا شدید مقابلہ ہوگا۔ گلوبل آرڈر کی تبدیلی میں بڑے چیلنجز بھی سامنے آتے ہیں۔ جب کسی طاقت کی رٹ کم ہوتی ہے، نئی طاقتیں ابھر رہی ہوتی ہیں تو پھر دنیا میں تنازعات جنم لیتے ہیں۔

اس وقت بھی ایسی ہی صورتحال ہے، ممالک کی پالیسی جارحانہ ہو گئی ہے اور ہر طرف تنازعات نظر آ رہے ہیں۔ مثال کے طور پر اسرائیل نے غزہ، فلسطین، شام، لبنان اور ایران پر حملے کیے۔ اسی طرح بھارت نے میانمار میں ڈرون سٹرائک کی اور پھر پاکستان کے ساتھ جنگ چھیڑ دی۔ روس اور یوکرین کی صورتحال بھی سب کے سامنے ہے۔ ایسی صورتحال میں ممالک کیلئے سفارتکاری بڑا چیلنج ہے۔ اس کے علاوہ معیشت بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کا معاشی ماحول بھی بدل گیا ہے، اب عالمی اداروں کے قوانین اور ضوابط بھی چیلنج کیے جا رہے ہیں، اب ممالک اپنے قوانین دنیا پر عائد کرنے کی کوشش کر ر ہے ہیں جس کی واضح مثال امریکا ہے۔ ان چیلنجز میں سب سے ضروری اپنے ملکی مفادات کا تحفظ ہے۔ ہمیں عالمی سطح پر سیاسی، سفارتی، معاشی، سکیورٹی اور سٹرٹیجک معاملات کو بائی لیٹریل اور ملٹی لیٹرل فورمز، سب پر لے کر چلنا ہے۔

میرے نزدیک پاکستان کیلئے امریکا اور چین کا ٹکراؤ بڑا چیلنج ہوگا جس کے براہ راست اثرات ہم پر پڑیں گے۔ تاریخی اعتبار سے سکیورٹی اور معاشی حوالے سے پاکستان کا انحصار امریکہ پر رہا ہے لیکن گزشتہ تین، چار دہائیوں میں اس میںشفٹ آیا ہے جس کے بعد ہمارا انحصار اب چین پر بھی ہے۔ پاک چین تعلقات معاشی بھی ہیں اور سکیورٹی کے حوالے سے بھی۔ پاکستان کیلئے امریکا اور چین دونوں ممالک اہم ہیں لہٰذا پاکستان یہ کوشش کر رہا ہے کہ دونوں کے ساتھ تعلقات میں توازن قائم کرے۔ پاکستان کو سفارتی حوالے سے ایک اور بڑے چیلنج کا بھی سامنا ہے۔ پاکستان کے امریکا، چین، روس، عرب و دیگر ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، اس کے باوجود پاکستان کیلئے ان ممالک کے ساتھ اسرائیل اور بھارت کے تناظر میں سفارتی تعلقات ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اسرائیل اور فلسطین کے حوالے سے پاکستان کا دوٹوک اور واضح موقف ہے۔

پاکستان فلسطین کا حمایتی ہے لہٰذا جب مشرق وسطیٰ میں جب کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کا نہ صرف معاشی بوجھ پڑتا ہے بلکہ ہمیں سفارتی محاذ پر بھی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور عالمی سطح سے بھی پریشر آتا ہے۔ ان تمام چیلنجز میں ہمیں پاکستان کی سفارتکاری کو بہترین آنداز میں آگے لے کر جانا ہے۔ بدلتی دنیا میں پاکستان کی سفارتکاری اور اس کے اثرات کا موضوع عالمی سیاست میں تیزی سے بدلتے ہوئے رجحانات، طاقت کے مراکز کی ازسرنو ترتیب اور ابھرتے ہوئے جغرافیائی و اقتصادی چیلنجز کے تناظر میں پاکستان کی سفارتکاری کو نئی حکمت عملی، وژن اور فعالیت کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنا پڑا ہے۔ جہاں سرد جنگ کے بعد یک قطبی دنیا کا تصور غالب رہا، وہیں آج دنیا ایک بار پھر کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے جس میں چین، روس، یورپی یونین اور ابھرتی ہوئی معیشتیں اپنا کردار بڑھا رہی ہیں۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک بڑا ستون علاقائی و عالمی طاقتوں کے ساتھ توازن قائم رکھنا رہا ہے۔ امریکا کے ساتھ تعلقات، جو کبھی اسٹرٹیجک الائنس کی سطح پر تھے، اب ایک زیادہ پریگمیٹک اور محدود تعاون کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ اس کے برعکس چین کے ساتھ تعلقات ’’آل ویدر فرینڈ شپ‘‘ سے بڑھ کر اکنامک، ٹیکنالوجیکل، اور اسٹرٹیجک تعاون میں گہرائی اختیار کر چکے ہیں، جس کی بڑی مثال چین،پاکستان اقتصادی راہداری ہے۔

پاکستان نے مسلم دنیا میں اتحاد و ہم آہنگی کے لیے بھی کوششیں کیں، چاہے وہ اسلامی تعاون تنظیم (OIC) میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنا ہو یا افغانستان کے استحکام کے لیے سفارتی کوششیں ۔ سعودی عرب، ترکی، ایران اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات میں توازن پیدا کرنے کی کوششیں پاکستان کی سفارتکاری کی کامیابیوں میں شامل ہیں۔ کشمیر پاکستان کی خارجہ پالیسی کا مرکزی نکتہ ہے۔ بھارت کے 5 اگست 2019ء کے اقدام کے بعد پاکستان نے عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کو جارحانہ انداز میں اٹھایا جس سے اقوام متحدہ، یورپی پارلیمنٹ، او آئی سی اور انسانی حقوق کی تنظیموں میں اس معاملے پر بحث ہوئی تاہم، بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات میں کشیدگی بدستور قائم ہے، جس سے علاقائی استحکام کو خطرہ لاحق ہے۔

سلمان جاوید

(ڈائریکٹر، ساؤتھ ایشاء ٹائمز)

 بھارت نے گزشتہ 25 برسوں میں یہ کوشش کی کہ بھارت کو ایک الگ حیثیت میں بڑی طاقت کے طور پر دیکھا جائے، پاک بھارت تناظر میں نہیں لیکن حالیہ جنگ کے بعد اس کی تمام کوششیں بیکار گئی ہیں اورآپریشن معرکہ حق کے بعد پاکستان کی عالمی ساکھ سب کے سامنے ہے۔ چین اور امریکا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات زیادہ بہتر ہوگئے ہیں۔ پاکستان بھارت کے ایک بڑے مدمقابل کے طور پر سامنے آیا ہے خاص طور پر دفاعی لحاظ سے ہم نے بھارت کو شکست دی ہے جو ایک بڑی فوجی طاقت ہے۔ یہ صرف ہم نہیں کہہ رہے بلکہ خود بھارت کے اپنے لوگ، چینی، روسی اور یورپی مبصرین بھی یہی بات کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان عالم اسلام میں ایک مرتبہ پھر طاقتور مسلم ملک کے طور پر ابھرا ہے۔

اس کے بعد سے غزہ کے مسلمانوں جو بدترین مظالم کا شکار ہیں اور مایوس ہوچکے تھے، ان میں امید پیدا ہوئی ہے کہ پاکستان کی صورت میں ایک ایسا ملک موجود ہے جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بھارت کو زبردست جواب دینے اور اس کے مزموم عزائم خاک میں ملانے کے بعد ہمارے معاشی حالات بہتر ہوئے اوریہاں سرمایہ کاری بھی آنا شروع ہوگئی ہے۔دنیا میں ہمارا سفارتی امیج بہتر ہوا ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف ، وزراء اور دیگر اہم شخصیات بیرون ممالک کے دورے کر رہی ہیں۔

یہ ایک سرپرائزنگ فیکٹر ہے کہ اہم شخصیات اور سربراہان مملکت سے ملاقاتیں کی جا رہی ہیں جس کا بہت فائدہ ہوا ہے، سابق ادوار میں اس طرح کی سفارتکاتی نہیں ہوسکی، اب اسے مزید فروغ دینا چاہیے۔ ہمارا پبلک ڈپلومیسی کا شعبہ ابھی کمزور ہے۔ پاکستان کو ٹریک ٹو اور تھری کے معاملات کو سامنے رکھتے ہوئے اس پر کام کرنے کی ضرورت ہے، اس سے بہت فائدہ ہوگا۔ ہمیں عالمی سطح پر عوامی رائے سازی پر کام کرنا ہے اور جو پاکستانی دنیا میں رہتے ہیں، ان کے ذریعے سفارتکاری کرنا ہوگی۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں

دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔

 آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟

 ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔

نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔

 یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔

 موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔

زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔

آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟

 یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟

دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  •   جی بی الیکشن: مسلم لیگ ن نے اسکردو سے بڑی کامیابی حاصل کر لی
  • جی بی الیکشن:سکردو سےمسلم لیگ ن کو بڑی کامیابی مل گئی
  • امتحان میں کامیابی کے باوجود عبدالمجید نوکری سے محروم، عمر کی حد رکاوٹ بن گئی
  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال