مسجد اقصیٰ کی بےحرمتی پر پاکستان کی شدید مذمت، اسرائیل کی اشتعال انگیزی پر عالمی ردعمل کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, August 2025 GMT
وزارت خارجہ پاکستان نے مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کے واقعے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسرائیلی حکومت کی اشتعال انگیز کارروائی کی سخت مذمت کی ہے۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہزاروں اسرائیلی آبادکاروں، جن میں سینئر وزرا، سرکاری اہلکار اور کنیسٹ کے ارکان شامل تھے، نے قابض اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں مسجد اقصیٰ کی بےحرمتی کی۔
بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ “ٹیمپل ماؤنٹ ہمارا ہے” جیسے بیانات اور اسرائیلی وزرا کی موجودگی ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت عالمی سطح پر مذہبی جذبات کو بھڑکانے اور حالات کو مزید کشیدہ کرنے کی کوشش ہیں۔
مزید پڑھیں: مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی اشتعال انگیزیاں اور اسکول تباہ کرنے پر پاکستان کی شدید مذمت
پاکستان نے عالمی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کو اس کی غیرقانونی، غیرانسانی اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزیوں پر جوابدہ بنایا جائے۔ بیان میں زور دیا گیا ہے کہ اقوام متحدہ اور او آئی سی کی قراردادوں کی روشنی میں مسجد اقصیٰ کی حرمت اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔
دفتر خارجہ نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی حمایت دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک آزاد، خودمختار اور قابل عمل فلسطینی ریاست کے قیام کی مکمل حمایت کرتا ہے، جس کی سرحدیں جون 1967 سے پہلے والی ہوں اور القدس الشریف اس کا دارالحکومت ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل اقوام متحدہ فلسطین مسجد اقصی وزارت خارجہ پاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل اقوام متحدہ فلسطین وزارت خارجہ پاکستان
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔