پاکستانی جنگجو روس کے لیے یوکرین میں لڑ رہے ہیں؟ یوکرینی صدر کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
پاکستانی جنگجو روس کے لیے یوکرین میں لڑ رہے ہیں؟ یوکرینی صدر کا دعویٰ WhatsAppFacebookTwitter 0 5 August, 2025 سب نیوز
کیف(آئی پی ایس) یوکرین کے صدر وولودومیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ شمال مشرقی یوکرین میں روسی افواج کے ساتھ لڑنے والوں میں پاکستان، چین اور افریقی ممالک کے جنگجو بھی شامل ہیں۔
صدر زیلنسکی نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ “ہم نے محاذ پر موجود کمانڈرز سے ووفچانسک کے دفاع اور جنگ کی صورتحال پر بات کی۔ ہمارے سپاہیوں نے اطلاع دی ہے کہ اس محاذ پر چین، تاجکستان، ازبکستان، پاکستان اور کچھ افریقی ممالک کے کرائے کے جنگجو شامل ہیں۔ ہم اس کا جواب دیں گے۔”
دوسری جانب پاکستان نے یوکرین میں جاری تنازع میں پاکستانی شہریوں کی مبینہ شرکت سے متعلق الزامات کو بے بنیاد، من گھڑت اور ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان ان الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے۔ اس حوالے سے کسی بھی سطح پر کوئی صداقت نہیں پائی جاتی۔
ترجمان کے مطابق اب تک یوکرینی حکام نے نہ تو حکومت پاکستان سے باضابطہ طور پر کوئی رابطہ کیا ہے اور نہ ہی ان دعووں کے حق میں کوئی قابلِ تصدیق یا ٹھوس شواہد فراہم کیے گئے ہیں۔ پاکستان اس معاملے پر یوکرین سے باضابطہ رابطہ قائم کرے گا اور اس نوعیت کے الزامات کی وضاحت طلب کی جائے گی۔
دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان یوکرین تنازع کے پرامن اور سفارتی حل پر یقین رکھتا ہے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے مطابق بات چیت کے ذریعے مسئلے کے حل کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔
2023 میں بی بی سی کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان نے دو امریکی پرائیویٹ کمپنیوں کے ساتھ 364 ملین ڈالر کا اسلحہ فروخت کرنے کا معاہدہ کیا، جس کے ذریعے ہتھیار مبینہ طور پر یوکرین پہنچائے گئے۔ تاہم پاکستان کی وزارت خارجہ، سابق نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ اور پاکستان میں روسی سفیر کی جانب سے ان الزامات کو مختلف مواقع پر مسترد کیا جا چکا ہے۔
صدر زیلنسکی اس سے قبل بھی روس پر چینی جنگجو بھرتی کرنے کا الزام لگا چکے ہیں، جسے چین نے مسترد کر دیا تھا۔ اسی طرح شمالی کوریا پر بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے اپنے ہزاروں فوجی روس کے کرُسک علاقے میں بھیجے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبریوکرین تنازع میں پاکستانی شہریوں کے ملوث ہونے کا یوکرینی صدر کا دعویٰ مسترد یوکرین تنازع میں پاکستانی شہریوں کے ملوث ہونے کا یوکرینی صدر کا دعویٰ مسترد پہلگام فالس فلیگ، پاکستانی فیکٹ چیک کے بعد بھارت کا حملہ آوروں کی پاکستانی شناخت کے دعوے سے راہ فرار ملک ریاض کی جائیدادوں کی نیلامی کیلئے تاریخ مقرر، تفصیلات سب نیوز پر راولپنڈی انتظامیہ کا اڈیالہ کے راستے سیل کرنے اور ہجوم سے سختی کے ساتھ نمٹنے کااعلان ،جیل کی سیکورٹی کو ریڈ الرٹ کیا جائیگا روس سے تیل کی خریداری، ٹرمپ نے بھارت پر عائد ٹیرف مزید بڑھانے کا اعلان کردیا اسلام آباد میں ممکنہ احتجاج کے پیش نظر دفعہ144نافذ، ضلعی انتظامیہ کا انتباہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: یوکرینی صدر کا دعوی میں پاکستان یوکرین میں
پڑھیں:
ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
تہران / منامہ: ایران کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایمیزون کے ایک ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی امریکا کے خلاف جاری جوابی اقدامات کا حصہ ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ حملے کا ہدف امریکی کمپنی ایمیزون کی وہ ڈیٹا تنصیب تھی جو ان کے بقول امریکی فوج کو معلوماتی معاونت فراہم کرنے میں کردار ادا کر رہی تھی۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ مذکورہ ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا تاہم ایرانی حکام نے اس دعوے کے حق میں فوری طور پر کوئی شواہد یا مزید تفصیلات پیش نہیں کیں۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی کمپنی ایمیزون، بحرین کی حکومت یا امریکی حکام کی جانب سے ایران کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے یا اس کے ممکنہ نقصانات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایران نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں وہ تمام فوجی اڈے یا تنصیبات جو امریکا ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرتا ہے، ایران کی نظر میں جوابی حملوں کے لیے جائز ہدف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران کے دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ پہلی بار ہوگا کہ کسی بڑی عالمی ٹیکنالوجی کمپنی کی تنصیب کو ایران نے براہِ راست اپنی فوجی کارروائی کا ہدف قرار دیا ہے۔ تاہم اس معاملے کی آزادانہ تصدیق کا انتظار کیا جا رہا ہے۔