UrduPoint:
2026-06-03@05:24:56 GMT

بھارت نے روسی تیل پر ٹرمپ کی ٹیرفس کی دھمکی مسترد کر دی

اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT

بھارت نے روسی تیل پر ٹرمپ کی ٹیرفس کی دھمکی مسترد کر دی

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 05 اگست 2025ء) بھارت نے پیر کے روز روس سے تیل کی مسلسل خریداری پر امریکہ اور یورپی یونین کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو غیر منصفانہ قرار دیا۔

نئی دہلی میں وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے بھاری محصولات عائد کرنے کی دھمکیوں کے درمیان ملک اپنے اقتصادی مفادات کا تحفظ کرے گا۔

حالیہ ہفتوں میں امریکی انتظامیہ کئی بار روس سے سستا تیل خریدنے کے حوالے سے بھارت پر تنقید کر چکی ہے، تاہم نئی دہلی نے اس پر کوئی رد عمل ظاہر کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کر رکھی تھی۔ پیر کے روز اس نے اس پر اپنا پہلا رد عمل ظاہر کیا۔

نئی دہلی نے روس کے ساتھ تجارت کے بارے میں کیا کہا؟

رندھیر جیسوال نے ملکی ضروریات کے مطابق توانائی کی فراہمی کو محفوظ بنانے کے قومی خود مختاری کے حق پر زور دیتے ہوئے کہا، "بھارت کو نشانہ بنانا بلاجواز اور غیر معقول ہے۔

(جاری ہے)

"

انہوں نے مزید کہا کہ "کسی بھی بڑی معیشت کی طرح، بھارت اپنے قومی مفادات اور اقتصادی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔"

جیسوال نے یہ بھی استدلال کیا کہ بھارت نے روسی تیل کی درآمدات صرف اس وقت شروع کیں، جب مغربی ممالک نے یوکرین کی جنگ شروع ہونے کے بعد روایتی سپلائی کو یورپ کی جانب موڑ دیا۔ انہوں نے یورپی یونین اور امریکہ دونوں پر اس معاملے میں منافقت کا الزام بھی لگایا۔

جیسوال نے کہا، "یہ دیکھنے کی بات ہے کہ بھارت پر تنقید کرنے والی قومیں خود روس کے ساتھ تجارت میں ملوث ہیں۔ ہمارے معاملے کے برعکس، اس طرح کی تجارت ان کی ایسی کوئی اہم قومی مجبوری بھی نہیں ہے۔"

جیسوال کھاد کیمیکل، لوہا، اسٹیل، مشینری اور ٹرانسپورٹ کے آلات پر مشتمل یورپ اور روس کے درمیان جاری تجارت کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ اپنی جوہری صنعت کے لیے روسی یورینیم ہیکسا فلورائیڈ، الیکٹرک گاڑیوں کے لیے پیلیڈیم اور دیگر صنعتی سامان کی درآمد جاری رکھے ہوئے ہے۔

ٹرمپ نے بھارتی ٹیرفس کے بارے میں کیا کہا؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نئی دہلی پر الزام عائد کیا کہ وہ یوکرین میں جنگ کے خاتمے کی کوششوں کی حمایت کرنے میں ناکامی کے ساتھ ساتھ رعایتی روسی تیل سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔

انہوں نے اس کے لیے بھارتی اشیا پر محصولات میں تیزی سے اضافہ کرنے کی بات کہی۔

اگرچہ ٹرمپ نے بھارت کے خلاف ٹیرفس کی درست شرح کی وضاحت نہیں کی،، تاہم فی الوقت بھارتی مصنوعات پر جو موجودہ 10 فیصد ٹیرفس عائد ہیں، ان کے جمعرات سے 25 فیصد تک بڑھنے کی توقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدام بھارت کی طرف سے "بڑی مقدار میں روسی تیل خریدنے" اور پھر اسے منافع کے لیے دوبارہ فروخت کرنے کے جواب میں کیے گئے ہیں۔

ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ بھارت کا اس طرح سے روسی تیل خریدنا دو اصل یوکرین کے خلاف ماسکو کی جنگ کو ایندھن فراہم کیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا: "انہیں اس بات کی پرواہ ہی نہیں ہے کہ یوکرین میں کتنے لوگ روسی جنگی مشین کے ہاتھوں مارے جا رہے ہیں۔"

امریکہ کا یہ اقدام اہم تجارتی تعلقات میں تناؤ کا سبب بن رہا ہے۔ امریکہ بھارت کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے، جس میں 2024 میں امریکہ کے لیے بھارت کی مجموعی برآمدات 87.

4 بلین ڈالر تھیں۔ بھارت رواں برس اب تک امریکہ کے ساتھ تقریباً 46 بلین ڈالر کا ریکارڈ سرپلس تجارت کر چکا ہے۔

ادارت: جاوید اختر

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے جیسوال نے نئی دہلی کہ بھارت انہوں نے روسی تیل کے ساتھ کہا کہ کے لیے کیا کہ

پڑھیں:

ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی