UrduPoint:
2026-07-24@08:31:19 GMT

بھارت نے روسی تیل پر ٹرمپ کی ٹیرفس کی دھمکی مسترد کر دی

اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT

بھارت نے روسی تیل پر ٹرمپ کی ٹیرفس کی دھمکی مسترد کر دی

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 05 اگست 2025ء) بھارت نے پیر کے روز روس سے تیل کی مسلسل خریداری پر امریکہ اور یورپی یونین کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو غیر منصفانہ قرار دیا۔

نئی دہلی میں وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے بھاری محصولات عائد کرنے کی دھمکیوں کے درمیان ملک اپنے اقتصادی مفادات کا تحفظ کرے گا۔

حالیہ ہفتوں میں امریکی انتظامیہ کئی بار روس سے سستا تیل خریدنے کے حوالے سے بھارت پر تنقید کر چکی ہے، تاہم نئی دہلی نے اس پر کوئی رد عمل ظاہر کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کر رکھی تھی۔ پیر کے روز اس نے اس پر اپنا پہلا رد عمل ظاہر کیا۔

نئی دہلی نے روس کے ساتھ تجارت کے بارے میں کیا کہا؟

رندھیر جیسوال نے ملکی ضروریات کے مطابق توانائی کی فراہمی کو محفوظ بنانے کے قومی خود مختاری کے حق پر زور دیتے ہوئے کہا، "بھارت کو نشانہ بنانا بلاجواز اور غیر معقول ہے۔

(جاری ہے)

"

انہوں نے مزید کہا کہ "کسی بھی بڑی معیشت کی طرح، بھارت اپنے قومی مفادات اور اقتصادی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔"

جیسوال نے یہ بھی استدلال کیا کہ بھارت نے روسی تیل کی درآمدات صرف اس وقت شروع کیں، جب مغربی ممالک نے یوکرین کی جنگ شروع ہونے کے بعد روایتی سپلائی کو یورپ کی جانب موڑ دیا۔ انہوں نے یورپی یونین اور امریکہ دونوں پر اس معاملے میں منافقت کا الزام بھی لگایا۔

جیسوال نے کہا، "یہ دیکھنے کی بات ہے کہ بھارت پر تنقید کرنے والی قومیں خود روس کے ساتھ تجارت میں ملوث ہیں۔ ہمارے معاملے کے برعکس، اس طرح کی تجارت ان کی ایسی کوئی اہم قومی مجبوری بھی نہیں ہے۔"

جیسوال کھاد کیمیکل، لوہا، اسٹیل، مشینری اور ٹرانسپورٹ کے آلات پر مشتمل یورپ اور روس کے درمیان جاری تجارت کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ اپنی جوہری صنعت کے لیے روسی یورینیم ہیکسا فلورائیڈ، الیکٹرک گاڑیوں کے لیے پیلیڈیم اور دیگر صنعتی سامان کی درآمد جاری رکھے ہوئے ہے۔

ٹرمپ نے بھارتی ٹیرفس کے بارے میں کیا کہا؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نئی دہلی پر الزام عائد کیا کہ وہ یوکرین میں جنگ کے خاتمے کی کوششوں کی حمایت کرنے میں ناکامی کے ساتھ ساتھ رعایتی روسی تیل سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔

انہوں نے اس کے لیے بھارتی اشیا پر محصولات میں تیزی سے اضافہ کرنے کی بات کہی۔

اگرچہ ٹرمپ نے بھارت کے خلاف ٹیرفس کی درست شرح کی وضاحت نہیں کی،، تاہم فی الوقت بھارتی مصنوعات پر جو موجودہ 10 فیصد ٹیرفس عائد ہیں، ان کے جمعرات سے 25 فیصد تک بڑھنے کی توقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدام بھارت کی طرف سے "بڑی مقدار میں روسی تیل خریدنے" اور پھر اسے منافع کے لیے دوبارہ فروخت کرنے کے جواب میں کیے گئے ہیں۔

ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ بھارت کا اس طرح سے روسی تیل خریدنا دو اصل یوکرین کے خلاف ماسکو کی جنگ کو ایندھن فراہم کیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا: "انہیں اس بات کی پرواہ ہی نہیں ہے کہ یوکرین میں کتنے لوگ روسی جنگی مشین کے ہاتھوں مارے جا رہے ہیں۔"

امریکہ کا یہ اقدام اہم تجارتی تعلقات میں تناؤ کا سبب بن رہا ہے۔ امریکہ بھارت کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے، جس میں 2024 میں امریکہ کے لیے بھارت کی مجموعی برآمدات 87.

4 بلین ڈالر تھیں۔ بھارت رواں برس اب تک امریکہ کے ساتھ تقریباً 46 بلین ڈالر کا ریکارڈ سرپلس تجارت کر چکا ہے۔

ادارت: جاوید اختر

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے جیسوال نے نئی دہلی کہ بھارت انہوں نے روسی تیل کے ساتھ کہا کہ کے لیے کیا کہ

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی پر برطانیہ کا بھی سخت ردعمل آگیا
  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی