غاصب و سفاک صیہونی رژیم کو مصر کیجانب سے حاصل وسیع تجارتی و صنعتی حمایت سے متعلق عالمی رپورٹس کے بعد مصری صدر نے اعلان کیا ہے کہ غزہ کی پٹی کے محاصرے میں مصر کے شریک ہونے سے متعلق دعوے "بے بنیاد" ہیں اسلام ٹائمز۔ مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے اعلان کیا ہے کہ غزہ کی جنگ کا مقصد اب "سیاسی مقاصد کا حصول" اور "قیدیوں کی رہائی" نہیں بلکہ اس کا مقصد؛ فلسطینی شہریوں کو بھوکے مار ڈالنا، ان کا قتل عام اور مسئلہ فلسطین کا خاتمہ ہے۔ المیادین کے مطابق مصری صدر نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ہم عالمی رائے عامہ کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ غزہ کی پٹی کی ابتر انسانی صورتحال کو "سودے بازی" کے لئے "سیاسی ہتھکنڈے" کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

غاصب و سفاک صیہونی رژیم کو مصر کی جانب سے تجارتی و صنعتی سازوسامان کے حامل بحری جہازوں کی فراہمی سے متعلق منظر عام پر آ جانے والی عالمی رپورٹس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے عبدالفتاح السیسی نے کہا کہ یہ دعوی کہ مصر غزہ کی پٹی کے محاصرے میں شریک ہے، بے بنیاد ہے درحالیکہ غزہ کی پٹی میں داخل ہونے کے لئے، مصری سرزمین پر، 5 ہزار سے زائد امدادی ٹرک بالکل تیار کھڑے ہیں! 

مصری صدر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ 5 سرحدی گزرگاہیں غزہ کی پٹی کو بیرونی دنیا کے ساتھ جوڑتی ہیں کہ جن میں مصر کے ساتھ منسلک رفح کراسنگ بھی شامل ہے جبکہ باقی تمام کا انتظام و انصرام اسرائیل کے ہاتھ میں ہے۔ مصری صدر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ، بہت سے ممالک کو جوابدہ ٹھہرائے گی اور جنگ غزہ پر ان کے موقف کے حوالے سے ان کا فیصلہ کرے گی! اس حوالے سے اپنی گفتگو کے آخر میں عبد الفتاح السیسی کا مزید کہنا تھا کہ میں ایک بار پھر دنیا، یورپی ممالک اور امریکی صدر سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ جنگ کو روکنے کے لئے مداخلت کریں اور امداد کو غزہ کی پٹی میں میں داخل ہونے کی اجازت دیں!

واضح رہے کہ مصری صدر کا یہ دعوی ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب عالمی میڈیا نے، غزہ میں سفاک اسرائیلی رژیم کی انسانیت سوز جنگ کے آغاز کے بعد سے؛ مصر و ترکی کی جانب سے غاصب اسرائیلی رژیم کی "خفیہ حمایت" سے پردہ اٹھا رکھا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق قابض اسرائیلی رژیم کو سب سے زیادہ تجارتی و صنعتی مدد فراہم کرنے والے اسلامی ممالک میں "مصر" و "ترکی" سر فہرست ہیں کہ جن کی نہ صرف بندرگاہیں، غزہ میں وسیع نسل کشی و غیر انسانی محاصرے کا مرتکب ہونے والی سفاک اسرائیلی رژیم کے بحری جہازوں کی مسلسل میزبانی میں مصروف ہیں بلکہ ان مسلم ممالک کے بحری جہاز بھی غاصب صیہونی رژیم کو تجارتی و صنعتی ساز و سامان کی ترسیل میں جتے ہوئے ہیں۔
-
  اس حوالے سے غزہ کے مظلوم عوام کی اولین حامی یمنی مسلح افواج نے بھی حال ہی میں مصر و ترکی کو متنبہ کرتے ہوئے ایک ویڈیو کلپ جاری کیا ہے جس میں ان دونوں ممالک کے متعدد بحری جہازوں کی جانب سے قابض اسرائیلی رژیم کی بندرگاہوں تک آمد و رفت کا ریکارڈ پیش کیا گیا ہے۔
-

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: تجارتی و صنعتی اسرائیلی رژیم غزہ کی پٹی کہ غزہ کی کی جانب رژیم کو کہا کہ

پڑھیں:

جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات

بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ‘ممتا بنرجی’ نے بنگلہ دیش کی انقلابی تحریک کے مرکزی رہنما عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔

منگل کو ممتا بنر جی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل قتل میں ملوث اصل چہروں سے واقف ہیں، تاہم قومی اور سفارتی اثرات کے باعث وہ فی الحال نام ظاہر نہیں کر رہیں۔

بی جے پی حکومت پر سنگین الزامات

منگل کو وسطی کولکتہ میں ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی وفاقی حکومت پر پہلی بار کھل کر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت عثمان ہادی کے قتل کیس سے متعلق انتہائی حساس معلومات اور شواہد کو عوام سے چھپا رہی ہے۔

میگھالیہ سرحد سے داخلہ اور اسپیشل ٹاسک فورس کی کارروائی

سابق وزیراعلیٰ نے سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے مرکزی کردار عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد کے راستے مغربی بنگال میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی مغربی بنگال کی ’اسپیشل ٹاسک فورس‘ (ایس ٹی ایف) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔

امیت شاہ کا فون اور خاموش رہنے کی درخواست

ممتا بنرجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے فوراً بعد انہیں بھارتی وزیر داخلہ ’امیت شاہ‘ کا فون موصول ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کا عدالت میں الزامات سے انکار

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’امیت شاہ‘  نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کیس کی تفصیلات اور ملزمان کی شناخت کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست ’قومی مفاد‘ سے جڑا ہوا ہے‘۔

ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے ملک اور خطے کے مفاد میں خاموش تھیں، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں مبینہ سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے بعد اب وہ سچ بولنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔

دوسری جانب نئی دہلی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ممتا بنرجی کے ان سنگین الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

مجھے سب کچھ معلوم ہے

اپنے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ عثمان ہادی کے قتل کا حتمی حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ وہ سازش کاروں کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔

نام نہ بتانے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ قتل کس نے کروایا اور کن لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ اگر میں نے ابھی نام ظاہر کر دیے تو بنگلہ دیش میں شدید سیاسی اثرات اور بھونچال آ سکتا ہے‘۔

مزید پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم فیصل کے معاون کو بھارت میں گرفتار کر لیا گیا

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے دوران ممتا بنرجی کے اس بیان نے نہ صرف بھارتی سیاست کو گرما دیا ہے، بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین حساس سفارتی تعلقات پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الزامات امیت شاہ بنگلہ دیش ترنمول کانگریس سنگین سیاسی عثمان ہادی۔ مغربی بنگال ممتا بنر جی مودی سرکار

متعلقہ مضامین

  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • انتقال کی خبریں بے بنیاد،طاہرہ سید نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا
  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور