امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت پر عائد 25 فیصد ٹیرف میں نمایاں اضافے کی دھمکی کے بعد مودی سرکار بوکھلاہٹ کی شکار ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے مشیرِ خاص کو آئندہ چند روز میں روس جانے کا حکم دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال رواں ہفتے ہی روس جائیں گے جبکہ وزیر خارجہ ایس جے شنکر کا دورہ اسی ماہ کے آخر میں متوقع ہے۔

اگرچہ یہ دونوں دورے معمول کی سالانہ مشاورت کا حصہ ہیں تاہم اس وقت امریکا اور بھارت کے درمیان روسی تیل خریدنے کے معاملے پر پیدا ہونے والی کشیدگی کے تناظر میں خاص اہمیت اختیار کرگئے ہیں۔

توقع ہے کہ صدر پوٹن بھی رواں سال کے آخر میں بھارت کا دورہ کریں گے تاہم اس دورے کو بھارتی مشیر قومی سلامتی اور وزیر خارجہ اپنے روسی دورے میں حتمی شکل دیں گے۔

عالمی خبر رساں ادارے نے مودی سرکار کے مشیر اور وزیر کی روس روانگی سے متعلق بھارتی وزارتِ خارجہ سے تصدیق چاہی لیکن تاحال کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

البتہ اس سارے معاملے سے باخبر ایک سے زائد بھارتی حکام نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر  مشیر قومی سلامتی اور وزیر خارجہ کے علیحدہ علیحدہ دورۂ روس کی تصدیق کی ہے۔

یاد رہے کہ وزیرِاعظم مودی نے گزشتہ برس اکتوبر میں روس کا دورہ کیا تھا اور پوٹن کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات طویل عرصے سے قائم ہیں۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق

ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی