پی ٹی آئی کی سابقہ مشیر اطلاعات پنجاب کے گھر پولیس کا چھاپہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
ویب ڈیسک: تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والی سابقہ مشیر اطلاعات پنجاب مسرت جمشید چیمہ کا گھر پولیس نے چھاپہ مارا، جس پر انہوں نے سخت ردعمل دیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’ایکس‘‘ پر پیغام دیتے ہوئے مسرت جمشید چیمہ نے کہا کہ رات پولیس نے ہمارے گھر پر ریڈ کیا جہاں انہوں نے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا۔
ٹی ٹونٹی سیریز ؛پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی ڈبلن میں بھرپور پریکٹس
صوبائی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ جمہوریت میں کوئی طبقہ احتجاج کرے اور سرکاری املاک کا نقصان کرے تو ادارے حرکت میں آتے ہیں لیکن یہاں احتجاج شروع بھی نہیں ہوتا اور پہلے ہی چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہیں۔
مسرت جمشید چیمہ نے کہا کہ پنجاب میں سانس لینا جرم بنا دیا گیا ہے، جعلی وزیراعلیٰ اپنے آپ کو ڈکٹیٹر سمجھنے لگ گئی ہے۔ بحیثیت ریاست ہمیں ہوش کے ناخن لینا ہوں گے۔
تحریک انصاف نے اسلام آباد میں احتجاج اور جلسہ منسوخ کردیا
انہوں نے کہا کہ ایسی فسطائیت سے انسانی حقوق، جمہوریت، شہری اور شخصی آزادیوں کے حوالے سے ہماری منزل کھوٹی ہو رہی ہے۔
سابقہ مشیر اطلاعات پنجاب کا کہنا تھا کہ ہمارا ملک پیچھے کی طرف جا رہا ہے، ہمارا نوجوان مایوس ہو رہا ہے اور ہر باشعور طبقہ ملک چھوڑنے پر مجبور ہے۔
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ