بھارتی ریاست اتراکھنڈ کے پہاڑی علاقے دھرالی میں شدید بارشوں کے بعد اچانک مٹی کا تودہ گرنے اور سیلابی ریلے سے خوفناک تباہی پھیل گئی۔ واقعے میں کم از کم 4 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ درجنوں مکانات اور عمارتیں ملبے تلے دب گئیں یا پانی میں بہہ گئیں۔

یہ بھی پڑھیں: مودی سرکار کی نااہلی بے نقاب: 36 لاکھ بھارتی سیلاب سے متاثر، 34 افراد جاں بحق

پیر اور منگل کی درمیانی شب  بھارتی ریاست اتراکھنڈ میں ہونے ہونے والی شدید بارش کے بعد پہاڑی سلسلے سے مٹی کا ایک بڑا تودہ قصبے پر آ گرا، جس کے بعد گدلا پانی، ملبے اور پتھروں کا ریلا رہائشی علاقوں میں داخل ہو گیا۔ سوشل میڈیا اور بھارتی چینلز پر نشر ہونے والی ویڈیوز میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ کئی منزلہ عمارتیں لمحوں میں زمین بوس ہوگئیں۔

واقعے کے فوراً بعد ریاستی حکومت نے امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے کہا ہے کہ ریسکیو آپریشن ہنگامی بنیادوں پر جاری ہے اور تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’بادل پھٹنے سے شدید نقصان ہوا ہے، ہم مسلسل صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ متاثرین کی ہر ممکن مدد کی جارہی ہے۔‘

???????? بھارت کے علاقے کیرگنگا، اتراکھنڈ میں 5 اگست 2025 کو شدید سیلاب نے تباہی مچادی ????۔ کئی گھر اور ہوٹل پانی میں بہہ گئے ????️????۔ مقامی افراد اور سیاح خوفزدہ ہوگئے، راستے بند اور نظام زندگی مفلوج ۔ ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں سرگرم ہیں ????????۔

????Top_Disaster pic.

twitter.com/vLyvW2mDOx

— PakWeather (@Pak_Weather) August 5, 2025

مقامی انتظامیہ کے مطابق قصبے میں موجود زیادہ تر افراد ایک قریبی میلے میں شریک تھے، جس کی وجہ سے بڑے جانی نقصان سے بچا جاسکا۔ مقامی افسر پرشانت آریہ نے تصدیق کی کہ اب تک 4 لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جبکہ لاپتا افراد کی تلاش جاری ہے۔

بھارتی فوج نے بھی امدادی کارروائیوں میں حصہ لیتے ہوئے علاقے میں رسائی حاصل کی ہے۔ فوج کے ترجمان کے مطابق:’دھرالی میں اچانک مٹی کا بڑا تودہ گرا، جس سے پیدا ہونے والا ملبہ اور پانی کا ریلا پورے قصبے میں پھیل گیا۔ ‘

فوج کی جانب سے جاری کی گئی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ قصبے کا بڑا حصہ گہرے کیچڑ میں ڈوبا ہوا ہے اور کئی مکانات کی چھتیں بھی کیچڑ سے مکمل طور پر ڈھک چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی آبی جارحیت میں شدت: بگلیہار کے بعد سلال ڈیم کے دروازے بھی بند

وزیر اعظم نریندر مودی نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متاثرین سے دلی ہمدردی ہے، امدادی سرگرمیوں میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔ ‘

دوسری جانب بھارتی محکمہ موسمیات نے علاقے کے لیے ریڈ الرٹ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو چوکس رہنے کی ہدایت کی ہے۔ محکمہ کے مطابق کچھ علاقوں میں 8 انچ (اکیس سینٹی میٹر) سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news اتراکھنڈ بارش بھارت سیلاب کلاؤڈ برسٹ لینڈ سلائیڈنگ مٹی ہمالیہ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اتراکھنڈ بھارت سیلاب کلاؤڈ برسٹ لینڈ سلائیڈنگ مٹی ہمالیہ کے بعد

پڑھیں:

گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری

 گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، متعدد شاہراہیں، پل اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے سے ہزاروں افراد، جن میں سیاح بھی شامل ہیں، مختلف علاقوں میں پھنس گئے۔

محکمہ موسمیات نے 26 جولائی تک گلگت بلتستان میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے اچانک سیلاب آنے کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پورا ہفتہ موسلا دھار مون سون بارشیں، محکمہ موسمیات کا ملک گیرالرٹ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا انتباہ

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق قراقرم شاہراہ داسو سے ہنزہ اور نگر تک کئی مقامات پر بند ہے، جبکہ بابوسر روڈ، بلتستان روڈ، نلتر شاہراہ، غذر۔شندور روڈ، استور ویلی روڈ اور دیگر اہم راستے بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ناقابلِ استعمال ہوگئے ہیں۔

مسلسل سیلابی صورتحال کے باعث امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ کئی علاقے پل اور رابطہ سڑکیں تباہ ہونے کے بعد ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہو گئے ہیں۔

روندو سب ڈویژن کے تورمک نالہ میں شدید سیلاب سے کم از کم تین اہم پل، جن میں ملان پل بھی شامل ہے، بہہ گئے۔ خرمانگ، گانچھے اور شگر اضلاع میں سڑکوں، پلوں، زرعی زمینوں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ ہراموش میں معلق پل اور بجلی گھر متاثر ہوئے ہیں۔

استور، تانگیر، تھور اور ضلع دیامر کے دیگر علاقوں میں بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام معطل ہو گیا ہے۔ پینے کے پانی کی اسکیمیں، آبپاشی کے نہری نظام اور حفاظتی پشتے بھی تباہ ہو گئے، جبکہ کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری

استور، تھور ویلی، تانگیر اور دیگر علاقوں میں درجنوں خاندان سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بے گھر ہو گئے ہیں۔

ضلع غذر میں متعدد مقامات پر سڑکیں بند، مقامی سطح پر سیلابی صورتحال اور دو گھروں کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت حساس علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

ہنزہ نگر دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے سے گلگت کے جوتل علاقے میں آٹھ گھروں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جبکہ یاسین ویلی، شیلی آباد، امیت اور دیگر علاقوں میں دریا کے کٹاؤ سے زرعی اراضی اور درختوں کو نقصان پہنچا ہے۔ غذر۔شندور اور غذر۔گلگت سڑکیں بھی تاحال بند ہیں۔

حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے اور انہیں خیمے، راشن، ادویات اور صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 6 سے 10 اپریل کے دوران بارشیں اور ژالہ باری، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے خوراک، صحت، پینے کے پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور تباہ شدہ سڑکوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کی فوری بحالی کے لیے بھاری مشینری استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر متاثرین کی بحالی اور ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے اسلام آباد میں قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا، جہاں چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے انہیں بتایا کہ گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کی جدید سائنسی طریقوں سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر گلیشیئر کو منفرد شناختی کوڈ دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔

وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب ایک حقیقت بن چکے ہیں اور گلگت بلتستان ان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون پر زور دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بارش تباہی سیلاب گلگت بلتستان

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا