’ خود پسندی میں ڈوبا شخص‘۔ٹرمپ کا بھارت پر مزید ٹیرف، گودی میڈیا بوکھلاہٹ کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
امریکی صدر کی جانب سے بھارت پر مزید ٹیرف لگانے کا عندیہ دیے جانے کے بعد گودی میڈیا بوکھلاہٹ کا شکار ہوگیا جب کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی بھارت کے خلاف سخت معاشی پالیسیوں پر بھارتی میڈیا نے شدید ردعمل دیا۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ بھارت تجارتی تعلقات میں دراڑ، گودی میڈیا نے امریکی صدر کو آڑے ہاتھوں لیا، بھارتی میڈیا نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت پر نمایاں طور پر زیادہ ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا نے کہا کہ امریکی صدر پر سخت تنقید وہ بے شرمی سے خود پسندی میں ڈوبا ہوا ہے، ٹرمپ کو نااہل قرار دینے کی بے شمار وجوہات ہیں۔
بھارتی میڈیا نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا نفسیاتی تجزیہ کرنا آج دنیا بھر میں ایک ابھرتا ہوا کاروبار بن چکا ہے۔
ٹرمپ کے بیان نے مودی میڈیا کی خود ساختہ شان کو خاک میں ملا دیا، بھارت پر اضافی ٹیرف کے اعلان نے مودی کی ناقص معاشی پالیسیوں کا پول کھول دیا۔
دنیا کی تیسری بڑی نام نہاد معیشت بننے کا دعوے دار بھارت امریکی ٹیرف وار برداشت نہ کر سکا، مودی کی سفارتی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے والا گودی میڈیا آج بھارت کی عالمی رسوائی کا سبب بن گیا۔
گودی میڈیا نے ٹرمپ کو ذہنی مریض، خود پسند اور نااہل قرار دینا شروع کر دیا، امریکی صدر نے مودی سرکار کی جھوٹی معاشی برتری کا پردہ چاک کر دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بھارتی میڈیا نے گودی میڈیا امریکی صدر بھارت پر
پڑھیں:
ٹرمپ کا ایران سے تحریری وعدے کا مطالبہ!
امریکی ذرائع کے مطابق، بین الاقوامی معاہدوں پر "انتہائی کم عمر دستخط" کے حامل انتہاء پسند امریکی صدر نے اس بار تہران سے "موجودہ تعطل پر قابو پانے کیلئے" تحریری عزم کا مطالبہ کیا ہے اسلام ٹائمز۔ امریکی حکام نیز ایک باخبر ذریعے سے نقل کرتے ہوئے امریکی چینل اے بی سی نیوز نے انکشاف کیا ہے کہ انتہاء پسند امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خواہش ظاہر کی ہے کہ تہران اس مرتبہ، "امریکہ کے ساتھ ابتدائی معاہدے" کے طور پر، مخصوص جوہری رعایتیں تحریری انداز میں پیش کرے۔ اے بی سی کے ذرائع نے تفصیلات فراہم کئے بغیر دعوی کیا کہ ایرانی مذاکراتکاروں نے پہلے زبانی طور پر اس بات کی ضمانت دی تھی کہ تہران بالآخر اپنے "جوہری پروگرام" سے متعلق کچھ شرائط پر راضی ہو جائے گا لیکن امریکی صدر نے جمعے کے روز سیچویشن روم میں ہونے والی ملاقات میں یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ وعدے کافی مضبوط نہیں۔
ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منگل کے روز سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنی رپورٹنگ کے سیشن کے دوران کسی بھی معاہدے پر پہنچنے سے قبل، ایران سے ٹرمپ انتظامیہ کی توقعات کی تفصیلات بتائی ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے دیگر اہلکاروں کی طرح ایران کے لئے گوناگوں شرائط بیان کرتے ہوئے، واشنگٹن کی جانب سے تہران کو دی جانے والی مراعات کے بارے مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ تفصیلات، اور اسی طرح تہران کے لئے مالی مراعات کا تعین بھی بعد میں کیا جائے گا۔ انتہاء پسند امریکی صدر سے نقل کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ مثال کے طور پر، اُنہیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم افزودہ یورینیم کو ضائع کر دیں گے.. اور اب سوال یہ ہے کہ ایسا کرنے کا طریقہ کار کیا ہے؟.. اور یہ بات مذاکرات کے قابل ہے!